اردن : صرف تین ماہ بعد شاہ عبداللہ صدر جوبائیڈن ملاقات کے لیے امریکہ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے شاہ عبداللہ امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچے ہیں۔ ان کی ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کے موضوع پر امید کے کمزور ہونے سے رفح پر امکانی اسرائیلی حملے اور حماس کے سیاسی دفتر کی ممکنہ تبدیلی کے سوالات پر تبادلہ خیال ہو سکتا ہے۔

شاہ عبداللہ نے محض چند ماہ قبل ماہ فروری میں امریکی صدر سے یہاں وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی اور اسرائیل کی غزہ جنگ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔ انہوں نے اس وقت بھی جنگ بندی پر زور دیا تھا۔ تاہم اب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ کی پیر کے روز کی ملاقات باقاعدہ اور باضابطہ نوعیت کی ملاقات نہیں ہو گی۔

بلکہ یہ ایک نجی ملاقات تصور کی جائے گی۔ تاہم اس دوران موضوعات ماہ فروری کی ملاقات والے یا ان سے ملتے جلتے ہی ہوں گے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جس طرح صدر جوبائیڈن اسرائیلی جنگی پالیسی کی وجہ سے عوامی سطح پر دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں، اسی طرح عرب ملک بھی اسرائیلی جنگ کے طوالت پکڑ جانے پر اپنے لیے اسے مزید برداشت کرنا مشکل سمجھتے ہیں۔

اس لیے شاہ عبداللہ بھی صدر سے جنگ بندی کے لیے کردار کو موثر بنانے کے لیے کہیں گے اور صدر جوبائیڈن بھی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے یہی بات کہنا چاہیں گے کی دباو ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔

ادھر غزہ میں سات ماہ کی جنگ کے باوجود قاہرہ مذاکرات میں ایک بار یہی ہوا ہے کہ فریقن نے ایک دوسرے کو دباؤ میں لانے یا دھمکانے کے سوا کچھ نہیں کیا اور جنگ بندی معاہدہ نہ ہونے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ حماس مکمل جنگ بندی کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے اور اسرائیل جنگ بندی کو ایک وقفے کی حد تک دیکھتا ہے۔ تاکہ اس دوران اس کے یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو جائے اور بعد ازاں جنگ پھر شروع کر دی جائے۔

عرب دنیا کے ملکوں کے لیے بھی فلسطینیوں کے مسلسل قتل کیے جاتے رہنے کو عوامی رد عمل کے واقعات سے بچائے رکھنا بجائے کود ایک برا چیلنج ہے کہ اب تو امریکی یونیورسٹیوں میں بھی جنگ مکالف اور فلسطین کی آزادی کے حق میں احتجاج شدید تر انداز میں سامنے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں