فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل محفوظ قرار دیے گئے غزہ کے ہرعلاقے میں بمباری کر چکا ہے : فلسطینی سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لندن میں مقیم فلسطینی سفارت کار حسان زملت نے 'العربیہ' کے رض خان کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا ہے 'اسرائیل نے ہر اس علاقے کو اپنی بمباری کا نشانہ بنایا ہے جسے محفوظ رکھنا لازمی ہے۔ کوئی ہسپتال، سکول اور شہری زندگی کے لیے لازمی انفراسٹرکچر سب کچھ کو اسرائیل نے بمباری سے تباہ کیا ہے۔

جب اسرائیلی فوج نے غزہ میں حملہ شروع کیا تو اس نے شمالی غذہ کے لوگوں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ جنوبی غزہ کے محفوظ علاقے میں چلے جائیں۔ اسرائیلی فوج کے اس محفوظ قرار دیے گئے علاقے میں رفح بھی شامل تھا۔ اب اسی رفح کو اسرائیل نے نشانہ پر لے لیا ہے۔ دیر البلاح کے علاقے میں بھی بمباری کی ہے۔ '

واضح رہے مصری سرحد سے جڑے ہوئے رفح شہر میں اس کی مجموعی آبادی سے پانچ گنا زیادہ لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جن کے اسرائیلی جنگ سے تباہ ہونے کا ایک بار پھر خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

فلسطنی سفارتکار حسام زملت نے ان حالات کا ذکر کیا جو غزہ میں بھوک اور تباہی سے متعلق ہیں اور جنہیں اقوام متحدہ قحط کے عروج کا نام دے چکی ہے۔ سفارت کار کا کہنا تھا 'غزہ میں صورتحال قحط کے قریب ہے اور اس کی وجہ اسرائیل کی طرف سے امدادی سامان اور خوراک میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے اور انسانی بنیادوں پر خوراک کو غزہ میں داخل نہ ہونے دینا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کی ترجمان 'تل ہینرچ نے اقوام متحدہ کی ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ غزہ میں قحط اپنے عروج کو چھو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے 'غزہ میں سب اچھا ہے۔'

تاہم نیتن یاہو کی ترجمان کا کہنا ہے' ہم نے شمالی غزہ کے حوالے سے متعدد بین الاقوامی تنظیموں سے سنا ہے۔ یہ بین الاقوامی ادارے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔ ان سب کا کہنا ہے کہ ہمیں غزہ میں امداد کی فراہمی کو مزید کم کرنا چاہیے۔ کیونکہ غزہ میں لوگوں کی ضرورت سے بھی زیادہ امداد اور خوراک پہنچائی جارہی ہے۔' گویا اسرائیل اور اس کے اتحادی اور شراکت دار سمجھتے ہیں کہ غزہ میں خوراک کی اس قدر بھر مار ہو گئی ہے کہ اب ضائع ہورہی ہے اور سنبھالنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔

تل ہینرچ نے 'العربیہ 'سے یہ بھی کہا 'ایک سو سے زائد ٹرک شمالی غزہ میں حالیہ دنوں میں داخل ہوئے ہیں، یہ اس ضرورت سے زیادہ ہیں جو یہاں درکار تھی۔'اس لیے ہمارے ساتھ اشتراک رکھنے والی تنظیمیں کہتی ہیں کہ غزہ میں امداد کم کر کے ضائع ہونے سے روکی جا سکتی ہے۔'

فلسطینی سفارت کار نے اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا 'غزہ میں صورتحال قحط کے قریب تر ہے اور ناکہ بندی و محاصروں کی وجہ سے ہے۔ اسرائیل بلا روک ٹوک انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کی اجازت نہیں دے رہا۔ غزہ میں یہ صورتحال پیدا کر کے اسرائیل اب رفح پر حملے کے لیے چلا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف انسانی تباہی کا ایک نسخہ ہے۔ جو فلسطینیوں کے خلاف ہے اور فلسطینیوں کے لیے کہیں جانے کی پناہ نہیں ہے۔'

واضح رہے یہ فلسطینی سفارت کار رفح میں پیدا ہوا تھا۔ سفارت کار کے بقول یہ ایک بہت چھوٹا سا قصبہ ہے مگر اب اس کی آبادی سب سے زیادہ گنجان ہو چکی ہے کہ اس میں لاکھوں پناہ گزین موجود ہیں۔ اسرائیل اسی کو نشانہ بنا رہا ہے۔

اس فلسطینی سفارت کار نے رفح میں فلسطینی بچوں کی کسمپرسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'اسرائیل فلسطینی بچوں کو محض بطخوں کے طور پر نشانہ لینے کے لیے اپنی جنگی مشینری کے سامنے رکھا ہوا ہے۔ یہ اس کے باوجود صورت حال ہے کہ اسرائیل کے اتحادی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل پر دباؤ ڈال رکھا ہے اور یہ دباؤ بڑھ رہا ہے اور اسرائیل ہے کہ رفح میں اپنے جنگی آپریشن کو روکنے کے لیے تیار نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں