فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ بندی مذاکرات میں ’فیصلے کا مکمل انحصار اسرائیل پر ہے‘: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس نے جمعہ کو علی الصبح کہا کہ قاہرہ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات میں شریک اس کا وفد شہر سے قطر کے لیے روانہ ہو گیا۔ نیز گروپ نے کہا، اب فیصلے کا انحصار مکمل طور پر اسرائیل کے جواب پر ہے۔

گروپ نے دیگر فلسطینی دھڑوں کو ایک پیغام میں کہا، "مذاکرات کرنے والا وفد قاہرہ سے دوحہ روانہ ہو گیا۔ عملاً قابض (اسرائیلی) حکومت نے ثالثین کی پیش کردہ تجویز مسترد کر دی اور اس پر کئی مرکزی مسائل کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے۔" نیز گروپ نے کہا کہ وہ اس تجویز پر قائم ہے۔

"نتیجتاً فیصلہ اب مکمل طور پر قابض حکومت کے ہاتھ میں ہے۔"

ریاست سے منسلک مصری خبر رساں ادارے القاہرہ نیوز نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ فریقین کے نمائندے دو روزہ مذاکرات کے بعد قاہرہ سے روانہ ہوگئے جن کا مقصد غزہ کی پٹی میں سات ماہ سے جاری جنگ کے لیے جنگ بندی معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا۔

خبری ادارے نے ایک اعلیٰ سطحی مصری ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا، مصر اور دیگر ثالثین یعنی قطر اور امریکہ کی کوششیں "فریقین کے نقطۂ نظر کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے جاری ہیں۔"

حماس نے پیر کو کہا کہ اس نے ثالثین کی پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی۔

گروپ نے کہا کہ اس معاہدے میں "مستقل جنگ بندی" کے ساتھ غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلاء، جنگ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی اور اسرائیل میں زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کے عوض حماس کے ہاں اسیر یرغمالیوں کا تبادلہ شامل تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اُس وقت اس تجویز کو "اسرائیل کے ضروری مطالبات سے دور" قرار دیا لیکن کہا تھا کہ حکومت پھر بھی مذاکرات کاروں کو قاہرہ بھیجے گی۔

اسرائیل طویل عرصے سے مستقل جنگ بندی کے خیال کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اسے حماس کے خاتمے کا کام ختم کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں