بغیر پائلٹ کے چلائے جانے والے ڈرون سے خلیج عدن میں کارروائی کی گئی ہے۔ یہ ڈرون حوثیوں کے زیر قبضہ یمنی علاقوں سے جمعہ کے روز لانچ کیا گیا۔ اس امر کی اطلاع امریکی سینٹ کام نے دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس ڈرون حملے سے کوئی امریکی یا کسی یورپی اتحادی کے فوجی نوعیت کے نقصان سمیت کسی تجارتی بحری جہاز کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
خیال رہے پچھلے سال ماہ نومبر سے بحیرہ احمر کے علاقے میں حوثیوں کی طرف سے حملے جاری ہیں۔ ان حملوں کی وجہ غزہ میں ماہ اکتوبر سے جاری جنگ ہے۔ جس کے رد عمل میں حوثی غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل ، اس کے اتحادیوں کے جنگی و تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لئے راکٹ یا ڈورون طیارے استعمال کر رہے ہیں۔
حوثیوں کے ان حملوں کو روکنے کے لیے امریکہ نے برطآنیہ و دیگر کئی مغربی ممالک سمیت دوسرے ملکوں کو ساتھ ملا کر ایک اتحاد قائم کیا ہے۔ مگر حوثیوں کے حملے ابھی جاری ہیں۔
ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجو نے اس دوران بار بار ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ان کے حملوں کا نشانہ بحری جنگی جہازوں کے علاوہ تجارتی بحری جہاز بھی ہی ۔ وہ بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں ماہ نومبر سے بغیر کسی تعطل کے حملے جاری ہیں۔
-
غزہ کے قریب امریکہ کے تعمیر کردہ بندرگاہ پر امداد لے جانے والا جہاز قبرص سے روانہ
میرین ٹریکنگ ویب سائٹس نے دکھایا کہ غزہ کے قریب امریکہ کے تعمیر کردہ بندرگاہ پر ...
مشرق وسطی -
برطانیہ کا اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے کا نظام امریکہ جیسا نہیں ہے: کیمرون
سکریٹری خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات کے برطانوی نظام اور ...
بين الاقوامى -
امریکہ : اسرائیل کو بموں کی ایک شمپنٹ نہ بھیجنے کی دھمکی
اربوں ڈالر کی فوجی امداد راستے میں
مشرق وسطی