صلیب احمر کی بین الاقوامی کمیٹی نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر رفح میں امکانی جنگی صورت حال کے پیش نظر ایک فیلڈ ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ ضرورت پچھلے ہفتے سے رفح میں جاری اسرائیلی فوج کے زمینی حملے کے سبب محسوس کی جا رہی تھی کہ آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں زخمیوں کو زیادہ 'فور کاسٹ ' کیا جارہا ہے۔
جب سے اسرائیلی فوج نے رفح میں زمینی جنگ بھی شروع کی ہے۔ رفح کے ہسپتالوں اور طبی عملےمیں خوف کی فضا بڑھ گئی ہے۔ نتیجتآ طبی عملہ بھی رفح سے فرار ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی تازہ رپورث میں بتایا گیا ہے اب تک صرف ایک ہفتے کے دوران ساڑھے چار لاکھ فلسطینی رفح سے دوبارہ نقل مکانی کر چکے ہیں۔لیکن ان کی اگلی منزل نہ جانے کہاں ہے ابھی اندازہ نہیں ہے۔
غزہ میں موجود فلسطینی کسی بھی علاج معالجے کی سہولت کےلیےمارے مارے پھرتے ہیں مگر میسر نہیں ہے۔ اس لیےاس فیلڈ ہسپتال کے قیام سےجنگ زدہ بے گھرفلسطینی عوام کی بہت بڑی ضرورت کچھ حد تک پوری ہوسکے گی۔
صلیب احمر کی کمیٹی کے مطابق موجود طبی عملہ چوبیس گھنٹے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ نئے فیلڈ ہسپتال میں ایک دن میں 200 زخمیوں اور مریضوں کو علاج کی سہولت دی جا سکے گی۔