رفح سے نکلنے والے 8 لاکھ افراد کے محفوظ علاقوں میں ہونے کی بات جھوٹ ہے: اونروا

سات اکتوبر کے بعد غزہ میں 35386 فلسطینی شہید، رفح میں 20 فوجی مارنے کا حماس کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (یو این آر ڈبلیو اے) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ اسرائیلی آپریشن شروع ہونے کے بعد رفح سے اب تک 800,000 افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

لازارینی نے ’’ایکس‘‘پر مزید کہا کہ غزہ میں دیر البلح، خان یونس اور المواصی میں نقل مکانی کرنے والے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یا صفائی کی سہولیات نہیں ہیں۔ انروا کمشنر نے کہا کہ یہ دعوے کہ غزہ میں لوگ محفوظ رہتے ہوئے یا انسانی بنیادوں پر نقل مکانی کرسکتے ہیں جھوٹے ہیں۔

لازارینی نے غزہ میں انسانی حالات کو "تباہ کن" قرار دیا اور کہا کہ زمینی گزرگاہوں کو کھولے بغیر اور اہل غزہ تک امداد کی محفوظ رسائی تک یہی حالات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 6 مئی سے غزہ کے شہر رفح میں صرف 33 ٹرک پہنچے ہیں۔

زمین پر موجود طبی ماہرین اور رہائشیوں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اور ٹینک ہفتے کے روز شمالی غزہ کی پٹی کے پرہجوم علاقوں میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جن پر حملے سے اسرائیل نے 8 ماہ سے گریز کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ان علاقوں میں جاکر جارحانہ کارروائیوں میں درجنوں فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔

اسرائیلی فورسز نے مصری سرحد کے قریب رفح شہر کی کچھ زمینوں پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ وہ زمینیں ہیں جو بے گھر لوگوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے رواں ماہ رفح کے خلاف شروع کی گئی مہم سے مصر اور امریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئ ہے۔

رواں ماہ کے دوران اسرائیل شمالی غزہ کے کچھ حصوں میں بھی نئے فوجی کومبنگ آپریشن کر رہا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں جنوری میں اسرائیل نے اپنی اہم کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ بھی کہا تھا کہ ان علاقوں میں حماس کے دوبارہ منظم ہونے کی صورت میں یہاں دوبارہ بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

غزہ کی پٹی کے 8 پناہ گزین کیمپوں میں سب سے بڑے جبالیا کیمپ کی گلیوں میں بھی اسرائیلی فورسز کے ٹینک داخل ہوگئے اور فلسطینیوں کو جارحیت کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ کیمپ میں اسرائیلی فوج نے ایک کارروائی کے دوران 15 فلسطینیوں کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔

غزہ میں وزارت صحت اور شہری دفاع کے حکام نے بتایا کہ درجنوں فلسطینیوں کی اموات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں تاہم اسرائیل کی مسلسل زمینی دراندازی اور فضائی بمباری کی وجہ سے مرنے والوں کی میتوں کی تلاش میں مشکل پیش آرہی ہے اور شہید ہونے والوں کی تعداد کی درست وضاحت میں بھی مشکل آرہی ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے سات اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر بربریت شروع کر رکھی ہے۔ 225 دنوں کے دوران صہیونی فورسز نے 35386 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد لاپتہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی لاشیں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئی ہیں۔

حماس، اسلامی جہاد اور فتح کے عسکری ونگز نے بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے جبالیا اور رفح میں اسرائیلی فوج پر ٹینک شکن میزائلوں، مارٹر گولوں اور کچھ سڑکوں پر پہلے سے نصب دھماکہ خیز آلات سے حملہ کیا ہے۔ ان حملوں میں کئی اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ القسام بریگیڈز نے ہفتہ کو بتایا کہ اس نے رفح میں دو کارروائیاں کرکے 20 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ ایک کارروائی میں 15 اور دوسری میں پانچ اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں