ابراہیم رئیسی کے ساتھ اور کون سے عہدیدار فضائی حادثے کی نذر ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل ہفتے کو ایران کےصدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کو لےجانے والا ہیلی کاپٹر آذربائیجان سے متصل ایران کے صوبہ آذربائیجان میں ایک ناہموار پہاڑی علاقے میں گر کرتباہ ہوگیا۔

اس المناک حادثے میں نہ صرف ایرانی صدر کی جان چلی گئی بلکہ وزیرخارجہ سمیت کئی دوسرے عہدیدار بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

لاشیں برآمد

ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ پیرحسین کولیوند نے آج پیر کو اعلان کیا کہ صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاشوں کو ایمبولینسوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ انہیں مشرقی آذربائیجان صوبے کے دارالحکومت تبریز پہنچانے کی تیاری کی جا رہی ہے جہاں سے کچھ فاصلے پر ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا۔

ہیلی کاپٹر پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے علاوہ تبریز شہرکے امام جمعہ علی الہاشم، مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی اور صدر مملکت کی سکیورٹی ٹیم کے انچارج مہدی موسوی، پائلٹ اور اس کے معاون اور ایوی ایشن ٹیکنیشن ہلاک ہوگئے۔

یہ تفصیلات ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر خراب موسمی حالات اور شدید دھند کے باعث ایران کے شمال مغرب میں واقع مشرقی آذربائیجان صوبے میں آذربائیجان کی سرحد کے قریب ایک ناہموار علاقے میں گر کر تباہ ہونے کے تقریباً 12 گھنٹے بعد سامنے آئی ہیں۔

آج پیر کو حکومت نے جمہوریہ کے صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ ساتھ تبریز شہر میں امام جمعہ علی الہاشم اور مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی کی حادثاتی موت پر سوگ کا اعلان کیا ہے۔

رئیسی کے معاون محسن منصوری نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں ان کی موت کا اعلان کیا۔

ہلال احمر نے بھی بعد میں اعلان کیا کہ صدر اور ان کے تمام ساتھیوں کی میت کو جائے حادثہ سے منتقل کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں ہلال احمر کے سربراہ پیر حسین کولیوند نے آج کہا تھا کہ امدادی ٹیموں نے طیارے کے حادثے کی جگہ تلاش کر لی ہے، لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ "صورتحال اچھی نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ طیارے کا ملبہ جس میں ملک کے صدر سمیت 9 اہلکار سوار تھے ملنے کے بعد اس کے مسافروں کے زندہ ہونے کا کوئی نشان نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں