اسرائیل ان تین یورپی ملکوں سے باز پرس کرے گا جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی ذمہ دار نے بتاتے ہوئے کہا ان ملکوں کے سفیروں کو اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز یروشلم بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ان ملکوں کے سفیروں کو وزارت خارجہ کے ذمہ دار ابلکار سات اکتوبر سے متعلق وہ ویڈیو دکھائیں گے جو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے حالات کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل نے ڈبلن ، اوسلو اور میڈرڈ میں اپنے سفیروں کو مزید مشاورت کے لیے واپس یروشلم بلالیا ہے۔
واضح رہے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ان ملکوں کے اعلان کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں امن کی صورت حال خراب ہو گئی ہے اور فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے واقعات اسرائیلی فوج نے بڑھا دیے ہیں۔
امریکی سر پرستی میں طے پانے والے دور یاستی حل کے معاہدے پر سفارت کاری رک چکی ہے۔ جبکہ سات اکتوبر کے روز سے صورت حال میں غزہ جنگ نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ غزہ جنگ کی وجہ سے پورا خطہ کشیدگی کی لپیٹ میں ہے اور اسرائیل حماس کے ساتھ جنگ بندی کو راضی نہیں ہے۔
ان حالات میں تین یورپی ملکوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسی ماہ کے دوران یا 28 مئی تک فلسطین کو باضابطہ ریاست کے طور پر تسلیم کریں گے۔ ان میں آئرلینڈ، ناروے اور سپین شامل ہیں۔ انہی ملکوں کے سفراء کو اسرائیلی وزارت خارجہ نے آج وزارت خارجہ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم ان تین ملکوں کے علاوہ بھی کئی مغربی ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تینوں ملکوں کی پیروی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔