اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کےلیے ہزاروں مظاہرین کا احتجاج ، پولیس سے جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی یرغمالیوں کے بے بس ورثا جو پچھلے تقریباً سات ماہ سے مسلسل مظاہرے کر کے اور اسرائیلی حکومت کے بڑوں سے ملاقاتیں کر کے اپنے عزیزوں کی رہائی کے مطالبے کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز ان کے صبر کا بھی بندھن ٹوٹ گیا اور ان کی اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

اسرائیلی پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ ہزاروں اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ ، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی آواز نیتن یاہو حکومت کو سنانے کے لیے جمع تھے۔

واضح رہے اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے لگ بھگ ایک سو یرغمالی اب بھی غزہ میں قید ہیں اور ان میں سے 30 کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں غزہ میں گل سڑ رہی ہیں۔

یہ سب اسرائیلی مظاہرین یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے اور ان کی رہائی کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے یرغمالیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور اسرائیلی حکومت کی ان کی رہائی سے لا پرواہی کی مذمت کر رہے تھے۔

تل ابیب میں کئی مظاہرین نے ان اسرائیلی فوجی خواتین کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔ جنہیں فوج میں فرائض کی ادائیگی کے دوران سات اکتوبر کو حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیلی علاقوں سے اٹھا لیا تھا اور وہ ابھی تک غزہ میں قید کاٹ رہی ہیں۔

پچھلے سات ماہ سے یہ مظاہرین اپنا ایک ہی مطالبہ دہرا رہے تھے کہ ان کے پیاروں کو غزہ سے رہائی دلائی جائے۔ یہ نیتن یاہو حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کر کے یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے۔

یروشلم میں ہفتے کے روز اسرائیلیوں کے اس مظاہرے میں شرکت کرنے والوں نے حکومت سے غزہ میں جنگ بندی کرنے کے مطالبے والے کتبے بھی اٹھا رکھے تھے۔ کئی مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے کتبوں اور بینروں میں مدد مدد کے نعرے اور مطالبے تحریر کر رکھے تھے۔

یرغمالیوں کو ایک طویل جنگ کرنے اور اس کے باوجود رہا نہ کرا سکنے بلکہ اس سلسلے میں مسلسل کوتاہی کے مرتک ہونے پر یرغمالوں کے حامی وزیر اعظم نیتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ استعفے کا مطالبہ کرنے والے اسرائیل میں جلد نئے انتخابات کی بھی بات کررہے تھے۔

اس موقع پر کئی جگہوں پر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ پولیس نے ان مظاہرین کو زبردستی روکنے کی کوشش کی اور پولیس کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپ شروع ہو گئی۔

ان مطاہرین میں شامل ' ویمن پروٹسٹفار دی ریٹرن آف آل ہوسٹیجز' کی بلیت ساگی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا ' ہم اپنے یرغمالیوں کے بغیر اب گھروں میں نہیں رہ سکتے مگر نیتن یاہو کی حکومت نے انہیں بالکل ہی چھوڑ دیا ہے۔'

مظاہرین میں شامل ایک یرغمالی کے ماموں سنیر داہن نے کہا' بنیادی بات یہ ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کافی کوشش نہیں کی ہے۔ اب تک یرغمالیوں کو واپس ہوجانا چاہیے تھے خواہ وہ جنگ سے آتے یا حماس کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں ، لیکن حکومت دونوں طرح سے ناکام رہی ہے۔ '

نیتن یاہو حکومت جسے اندرونی طور پر سیاسی اور بیرونی طور پر اخلاقی چیلنجوں کا سامنا ہے یرغمالیوں کی رہائی میں ناکامی کی وجہ سے لواحقین کی مسلسل تننقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ تاہم ایک روز قبل یہ خبر آئی ہے امریکی و اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہان نے باہم ملاقات کی ہے تاکہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ پھر سے مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔

یہ بھی اطلاعات میڈیا کے ذریعے سامنے آ چکی ہیں کہ اسی ہفتے کے آخر تک اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے جارہا ہے۔ تاکہ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے متبادل تجاویز پر غور کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں