حماس کا بائیڈن کی جنگ بندی تجویز پر مثبت ردِ عمل

یورپی یونین کی سربراہ نے بھی مجوزہ معاہدے کو 'حقیقت پسند' قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس نے جمعے کے روز کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے تین مراحل پر مشتمل جس تجویز کا اعلان کیا ہے، وہ اس کے مندرجات کے بارے میں مثبت سوچ رکھتی ہے۔

گروپ نے ایک بیان میں کہا، "حماس کسی بھی تجویز پر مثبت اور تعمیری انداز میں معاملہ طے کرنے کے لیے تیار ہونے کی تصدیق کرتی ہے جو مستقل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے (اسرائیلی افواج کے) مکمل انخلاء، (غزہ کی) تعمیرِ نو اور بے گھر افراد کی ان کے گھروں میں واپسی پر مبنی ہو۔ اور اس کے ساتھ یہ قیدیوں کے تبادلے کے حقیقی معاہدے کی تکمیل کرے اگر قابض اسرائیل واضح طور پر ایسے معاہدے کا اعلان کرے۔"

حماس کا موقف اس کے رویئے میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے جس نے حالیہ مہینوں میں امریکہ پر اسرائیل کا ساتھ دینے اور جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام لگایا تھا۔

ثالثی کی کوششوں کو قریب سے دیکھنے والے ایک فلسطینی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا، "حماس کے نزدیک اب بائیڈن کی پوزیشن اسرائیل پر دباؤ ڈالنے پر زیادہ مرکوز ہے کہ وہ ایک مختلف رویئے کے ساتھ مذاکرات کی طرف واپس آئے ورنہ وہ (اسرائیل) امریکیوں کے ساتھ اختلاف کا خطرہ مول لے سکتا ہے۔"

غزہ میں ممنوعہ حدود کے معاملے پر اختلافات نے بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان ممکنہ تضاد شروع کر دیا ہے جس سے یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ آیا امریکہ فوجی امداد پر پابندی لگا سکتا ہے اگر اسرائیل اب تباہ حال انکلیو میں اپنی جارحیت جاری رکھے۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ بائیڈن کے جنگ بندی منصوبے کی تفصیلات سامنے لانے کے بعد اسرائیل نے مذاکرات کاروں کو اختیار دے دیا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ پیش کریں۔

یورپی یونین کا معاملے پر اظہار رائے

یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے بھی غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کردہ اسرائیلی لائحہ عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک "اہم موقع" قرار دیا۔

یورپی کمیشن کی صدر نے سوشل میڈیا پر کہا، "میں بائیڈن سے مخلصانہ طور پر متفق ہوں کہ تازہ ترین تجویز غزہ میں جنگ اور شہری مصائب کے خاتمے کی طرف بڑھنے کا ایک اہم موقع ہے۔ یہ سہ قدمی نقطۂ نظر متوازن اور حقیقت پسندانہ ہے۔ اب اسے تمام فریقین کی حمایت کی ضرورت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں