دوران حج معمول سے زیادہ گرمی پڑنے کا امکان، سعودی موسمیاتی مرکز کی پیش گوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے خبر دار کیا ہے کہ اس سال حج کے دنوں میں گرمی کی شدت معمول سے زیادہ ہو گی، یہ بات عازمین حج کو منگل کے روز بتائی گئی ہے تاکہ وہ گرمی سے بچاؤ کے لیے خود کو تیار رکھیں۔

محکمہ موسمیات کے اندازے کے مطابق حج کے دنوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تک جا سکتا ہے۔ پچھلے سال حج سیزن میں اس درجہ حرات کی وجہ سے لو لگنے اور 'ہیٹ سٹروک' کے ہزاروں کیس دیکھنے میں آئے تھے۔

محکمہ موسمیات کے سربراہ ایمن غلام نے بتایا ہے پیش گوئی کی جارہی پہے کہ رواں سال پچھلے سال کے مقابلے میں درجہ حرارت ایک سے ڈیڑھ سینٹی گریڈ زیادہ ہو سکتا، یہ صورت حال مکہ اور مدینہ دونوں جگہوں پر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہوا میں متوقع طور نمی کا تناسب 25 فیصد بتایا جارہا ہے، بارش ہونے کا امکان صفر ہےجبکہ درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا۔

امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ رواں سال فریضہ حج کی ادائیگی کا آغاز 14 جون سے ہوگا، حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے، مگر یہ صرف ان مسلمانوں پر لازم ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔

پچھلے سال 18 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔ جبکہ گرمی کی شدت کی وجہ سے 2000 سے زائد حجاج کو 'ہیٹ سٹروک' کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کیونکہ درجہ حرارت 48 سینٹی تک چلا گیا تھا۔

ایمن غلام نے بتایا اس گرمی کی شدت ست بچنے کے لیے ائیر کنڈیشنرز کے علاوہ ھوا میں نمی بڑھانے اور گرمی کا احساس کم کرنے کے لیے بھی مملکت کی طرف سے خاطر خواہ اہتمام کیا جاتا ہے، نیز پانی کی فراہمی اور استعمال دونوں کے بڑھانے پر زور دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں