اسرائیلی کنیسٹ: الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی خدمات سے استثنیٰ کے قانون پر ووٹنگ

گیلانٹ نے قانون کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے: اسرائیلی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیر کو اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اسرائیلی کنیسٹ ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے والے قانون پر آج ووٹنگ ہو گی۔ جنگ کونسل کے ارکان بینی گانٹز اور گاڈی آئزن کوٹ کے استعفیٰ دینے اور اپوزیشن کی صفوں میں شامل ہونے کے ایک دن بعد ووٹنگ کی جارہی۔ یہ دونوں ارکان بنیادی طور پر قانون کو مسترد کرتے ہیں۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے کہا کہ کنیسٹ میں نظریں وزیر دفاع یوآو گیلانٹ کی طرف لگی ہیں جو حکومت میں اس قانون کو ووٹ دینے کے مخالف تھے۔ ووٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا گیلانٹ اس تجویز کی مخالفت جاری رکھیں گے یا پوری حکومت دائیں بازو کی طرف مائل ہوکر قانون کی حمایت کرے گی اور اس تجویز کے حق میں ووٹ دے گی۔

علاوہ ازیں اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے رپورٹ کیا ہے کہ گیلانٹ نے آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ کرنے والے قانون کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبار کے مطابق گیلانٹ، جن کا تعلق نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی سے ہے، کی مخالفت قانون کی منظوری میں ناکامی کا باعث نہیں بنے گی۔ گیلنٹ کے بغیر بھی حکمران اتحاد کے پاس 120 میں سے کنیسٹ میں 63 حمایتی ارکان موجود ہیں۔ تاہم وزیر دفاع کی مخالفت کے بعد قانونی رائے کے معاملے میں اپوزیشن اہم ہو گی۔

اخبار نے مزید کہا ہے کہ گیلانٹ نے کچھ حد تک بنیاد پرست احتجاجی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ان کے اس ڈرامائی قدم کے نتائج ابھی واضح نہیں ہیں کہ اس کی وجہ سے انہیں کیا سزا مل سکتی ہے؟ گانٹز نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو دی گئی ڈیڈ لائن کی میعاد ختم ہونے کے بعد جنگی کونسل سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے ڈیڈ لائن سے قبل مختلف نقاط پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا کہا تھا۔ ان نقاط میں جنگ کے حوالے سے اور الٹرا آرتھوڈوکس کی بھرتی کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنا بھی شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں