غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے: حماس عہدیدار کا امریکہ سے مطالبہ

ہم جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام پر مثبت ردِ عمل کے لیے تیار ہیں: حماس عہدیدار سامی ابو زہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے دورے سے قبل حماس کے ایک سینئر اہلکار نے پیر کے روز امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ بلنکن پیر کے روز اس خطے میں جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے طے شدہ دورے پر پہنچ رہے ہیں۔

بلنکن پیر کو مصر اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس کا مقصد یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ جنگ لبنان تک نہ پھیلے۔

حماس کے سینئر عہدیدار سامی ابو زہری نے کہا کہ ہم امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں جنگ روکنے کے لیے قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور حماس تحریک جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام سے مثبت انداز میں نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

سات اکتوبر کے بعد سے بلنکن کا یہ خطے کا آٹھواں دورہ ہے جس کے دوران وہ اس ہفتے اردن اور قطر کا بھی سفر کرنے والے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے طے شدہ اوقات کے مطابق وہ پیر کو پہلے قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اور پیر کے اواخر میں اسرائیل جائیں گے جہاں وہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع یوآو گیلانٹ سے ملاقات کریں گے۔

پیر کے روز فلسطینی باشندوں نے کہا کہ ٹینک پیر کی صبح سویرے شمال کی طرف مزید گہرائی میں شبورا کے کنارے جانے کی کوشش کر رہے تھے جو شہر کے وسط میں واقع ایک گنجان آباد ترین محلہ اور عسکریت پسندوں کا گڑھ ہے۔

اسرائیلی ٹینک فورسز نے اس کے بعد سے غزہ کی مصر کے ساتھ پوری سرحدی پٹی پر قبضہ کر لیا ہے جو رفح سے گذرتے ہوئے بحیرۂ روم کے ساحل تک جاتی ہے اور 280,000 باشندوں والے شہر کے کئی اضلاع پر حملہ کر دیا ہے جس سے رفح میں پناہ گزین تقریباً 10 لاکھ افراد دوسری جگہوں پر بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے 31 مئی کو اسرائیل کی جانب سے تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی تجویز کا خاکہ پیش کیا تھا جس میں دشمنی کے مستقل خاتمے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی تعمیرِ نو کا تصور دیا گیا ہے۔ بلنکن کا دورہ یہ تجویز پیش کرنے کے بعد ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ غزہ جنگ میں اب تک 37 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں