امریکہ نے اسرائیلی وزیر دفاع کو بھی دورے پر امریکہ بلایا ہے۔ جہاں وہ پینٹا گون میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات کریں گے اور غزہ کی جاری جنگ ، رفح میں اسرائیلی زمینی فوج کی اب تک کی پیش رفت اور چیلنجوں پر بھی تبالہ کریں گے نیز خطے کی کشیدگی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
واضح رہے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے وارنٹ گرفتاری کی ملی جلی خبروں کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع کے ممکنہ پہلے غیر ملکی دورے کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس امر کی باضابطہ اطلاع اتوار کے روز پینٹا گون کی طرف سے سامنے آئی ہے۔
واضح رہے اس سے قبل آمریکی ارکان کانگریس بھی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ماہ جولائی میں کانگریس کے اجلاس سے خطاب کی دعوت دے چکے ہیں۔ اتفاق ہے ان دونوں اسرائیلی عہدے داروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی بات بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے دی تھی۔
اب 31 مئی کو صدر جوبائیڈن کی طرف سامنے لائے غزہ جنگ بندی معاہدے کی تجویز کے بعد بھی اسرائیلی عہدے داروں کا یہ امکانی طور پر الگ الگ تاریخوں میں پہلے پہلے غیر ملکی یا امریکی دورے ہوں گے۔
صدر جوبائیڈن اسرائیلی رہنماؤں پر جنگ بندی تجویز کے مطابق معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جبکہ نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی اتحادی جماعتیں اس معاہدے سے دور رہنے کا کہہ رہی ہیں وگرنہ وہ حکومت چھوڑ سکتی ہیں۔
اس ہفتے حماس کی طرف سے ایک اس تجویز پر ریسپانس دیا گیا ہے ۔ تاہم مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا کے بغیر کوئی معاہدہ نہ کرنے کا کہا ہے۔ حماس نے کچھ متبادل تجاویز بھی دی ہیں۔
اس پس منظر میں اسرائیلی وزیر دفاع کو لائیڈ آسٹن نے نصیرات حملے کے اگلے فون پر یوو گیلنٹ سے بات کرتے ہوئے انہیں پینٹا گون کے دورے کی دعوت دی ہے۔ جسے اسرائیلی وزیر دفاع نے قبول کر لیا ہے۔ یہ بات پینٹا گون کے پریس سیکرٹری میجر جنرل پیٹرک رائیڈات نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہی ہے۔
تاہم ابھی اس ممکنہ دورے کی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔