سعودی وزارت خارجہ نے مملکت کی جانب سے جمہوریہ آرمینیا کی حکومت کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم قدم ہے جو 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے راستے کی حمایت کرتا ہے۔
وزارت نے عالمی برادری خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک جنہوں نے ریاست فلسطین کو تسلیم نہیں کیا ہے سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو اس طرح تسلیم کرنے کی طرف آگے بڑھیں جو دو ریاستی حل کی حمایت کرے اور بین الاقوامی امن کی بنیادوں کو مضبوط کرے۔
غزہ میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد سے سعودی عرب اور عرب اور اسلامی ملکوں نے اعلیٰ سطح کی سفارتی کوششوں کی قیادت کی ہے تاکہ عالمی برادری پر ایسے ایک فوری اور جامع حل تلاش کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے جو فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔
ان کوششوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک مسودہ قرارداد کی منظوری دی جس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فلسطین کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے معاملے پر مثبت طور پر نظر ثانی کرے۔