سعودی عرب کے وزیر برائے اقتصادیات اور منصوبہ بندی فیصل بن فاضل الابراہیم نے کہا ہے کہ مملکت نے ویژن 2030 کی جانب اپنا نصف سفر طے کرلیا ہے۔ سات سال قبل شروع کیا گیا یہ سفر اپنی منزلوں کی طرف تیزی کےساتھ جاری ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ "اب تک ہم ویژن کے حصول کے سفر میں آدھا مرحلہ عبور کر چکے ہیں۔ اس دوران بہت سی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ معاشی تنوع کی رفتار کو تیز کرنا اور انسانی سرمائے کی ترقی کے نتائج کو بڑھانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ لہٰذا اب ہم ایک نئے معاشی دور کی دہلیز پرکھڑے ہیں جس میں آنے والی دہائیوں میں دلچسپ تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جائے گا۔
الابراہیم نے یہ بات عالمی اقتصادی فورم کے نئے چیمپیئنز کے سالانہ اجلاس کے دوران ایک ڈائیلاگ سیشن سے خطاب میں کہی۔ یہ فورم چین کے شہر ڈالیان میں منعقد ہوا۔ سیشن "مستقبل کی ترقی اور ہماری توقعات" کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں انہوں نے مملکت کے ویژن 2030 کے آغاز کے بعد سے مملکت میں تیل پر انحصار کم کرنے کی سرگرمیوں کی تیز رفتار ترقی پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ "مملکت نے سال 2022ء میں 8.7 فیصد کی تیز ترین اقتصادی ترقی کی شرح حاصل کی اور غیر تیل کی سرگرمیوں نے 5.6 فیصد تک ترقی کی ہے۔ آج بھی غیر تیل کی سرگرمیوں کی نمو مضبوط ہے، کیونکہ غیر تیل کی سرگرمیاں حقیقی مجموعی گھریلو پیداوار کا 51 فی صد ہیں۔
الابراہیم نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت توانائی کی حفاظت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے میدان میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مملکت صاف ہائیڈرو کاربن توانائی پیدا کرنے والوں میں سب سے آگے ہے۔ یہ قابل تجدید توانائی کے میدان میں بھی سرخیل ہے۔ جس سے ہماری مراد سبز ہائیڈروجن، شمسی توانائی، ہوا کی توانائی اور دیگر ذرائع ہیں۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر وزیر اقتصادیات اور منصوبہ بندی نے عالمی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مربوط نقطہ نظر کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نےکہا کہ بین الاقوامی تعاون، اختراعات اور جامع حل کو اپنا کر بین الاقوامی برادری درپیش چیلنجز کو مؤثر طریقے سے حل کر سکتی ہے۔