اٹلی بعد از جنگ بندی غزہ میں امن فوج کا حصہ بننے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اٹلی کے وزیر خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد ان کا ملک غزہ میں امن فوج کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔ وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی یہ بات جمعرات کے روز کہی ہے۔

ان کا کہنا تھا 'ہم فلسطینی اتھارٹی کی مدد کر رہے ہیں اس لیے ہم جنگ بندی کے اگلے ہی روز اپنی فوج اقوام متحدہ کی چھتری تلے غزہ میں بھیجنے تیار ہیں۔ تاکہ فلسطینی اتھارٹی اور عرب قیادت کی مدد کر سکیں۔

وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی نے 'العربیہ ' سے نیٹو کی 75 ویں کانفرنس کے موقع پر سائیڈ لائنز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ' اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی اس سلسلے میں اٹلی کے کردار کے لیے کھلے ہیں۔۔ اصل میں ہم درمیان میں ہیں۔ اٹلی چاہتا ہے کہ مشرق وسطٰی کا یہ دیرنیہ تنازعہ ختم ہو جس کی وجہ سے آج تک بہت جنگیں ہو چکی ہیں، اور اب بھی جنگ جاری ہے۔'

ایک سوال کے جواب میں تاجانی نے کہا ' یہ بہت بڑی غلطی ہوگی اگر فلسطینیوں کےاپنی ریاست کے خواب کر دیے جائیں'۔

خیال رہے اٹلی بین الاقوامی سطح پر قائم اس گروپ کا حصہ ہے جوغزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد بھیجنے کے لیے بنا ہے۔ جہاں اسرائیل نے دسیوں ہزار فلسطینیوں کو بلا امتیاز قتل کیا ہے اور اس کے بعض حصوں میں قحط کی سی صورت حال ہے۔

وزیر خارجہ تاجانی نے کہا 'اٹلی امن فوج کا حصہ بن کر سولینز کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا غزہ کی عام آبادی حماس نہیں ہے۔ عام آبادی کو ظالمانہ اس صورت حال کا سامنا ہے۔'

جمعرات ہی کے روز امریکہ نے اسرائیلی شہریوں اور اداروں کو پابندیاں کا نشانہ بنای ہے۔ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے یہ اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف پر انتہا پسندانہ اور تشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

امریکی دفتر خارجہ نے خبر دار کیا ہے کہ مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں اگر اسرائیلی حکومت نے فوری اقدامات کر کے صورت حال کو مغربی کنارے میں بہتر نہ کیا۔ اور متعلقہ شخصیات اور اداروں کوکٹہرے میں کھڑا نہ کیا تو مزید پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں