سعودی عرب کی خاتون تیراک مشاعل العاید 2024ء پیرس اولمپکس میں سعودی وفد میں 200 میٹر فری اسٹائل مقابلے میں 10 کھلاڑیوں میں شرکت کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے 2024ء کے پیرس اولمپکس میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے پر اپنی مسرت اورفخر کا اظہار کیا۔ تیراکی کے مقابلے میں مشاعل پہلی سعودی خاتون ہیں جو اس عالمی مقابلے میں شامل ہیں۔
مشاعل بتاتی ہیں کہ پیرس 2024ء کے اولمپک گیمز میں شرکت کے اعلان کے بعد سےمیرے جسمانی، نفسیاتی اور خوراک سے متعلق تیاری کے شیڈول میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ میں اب اپنے دن کا زیادہ تر حصہ پول اور جم میں گذارتی ہوں تاکہ روزانہ کی بنیاد پراپنے تجربات کو بہتر بنا سکوں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ مجھے بچپن سے ہی پانی سے کھیلنے کا شوق رہا ہے۔ تیراکی مجھے آزادی اور طاقت کا احساس دلاتی ہے اور ساتھ ہی جسمانی تندرستی اور مجموعی صحت کو برقرار رکھنے کا ایک تفریحی طریقہ ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ 12 سال تک میں نے تیراکی کی مشق جاری رکھی جس سے مجھے تیراکی کی حرکات کا احساس پیدا ہوا۔ مجھے آبی ماحول کی عادت ڈالنے میں مدد ملی، مجھے الاتفاق کلب، سعودی سوئمنگ ٹیم اور ایلیٹ پروگرام سے بھی بھرپور تعاون حاصل ہوا۔ مجھے ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کے مواقع ملے۔ میں نے دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں میں 5 سے زیادہ بیرونی تربیتی کیمپوں میں حصہ لیا۔
اپنے کھیل کے تجربے کے تناظر میں وہ کہتی ہیں کہ وہ اولمپکس میں اپنی شرکت کو ذاتی سطح پر اپنی چوتھی بین الاقوامی شرکت سمجھتی ہیں۔ اپنے تجربات اور مہارتوں کو نکھارنے کے حوالے سے مشاعل کا کہنا ہےکہ کھیل خواتین کو اپنے آپ کو ثابت کرنے، خود اعتمادی بڑھانے اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کا موقع ہے۔
مشاعل العاید نے اپنے تیراکی کے کیریئر کا آغاز چھ سال کی عمر میں کیا۔ تجربہ حاصل کیا۔ مصر اور کویت میں سخت تعلیمی اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے ترقی کی۔ العاید نے اپنے بچپن سے ہی واضح کارکردگی دکھائی ہے۔ اس نے امارات میں ہونے والے پہلے گلف یوتھ گیمز میں 100 میٹر بریسٹ اسٹروک، 100 میٹر بٹر فلائی اور 100 میٹر فری اسٹائل ریس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلا سعودی خواتین کا تمغہ حاصل کیا۔
قابل ذکر ہے کہ العاید نے اس سے قبل "فرسٹ گلف یوتھ گیمز" میں سعودی تیراکی کا پہلا طلائی تمغہ جیت کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی تھی، جو سعودی خواتین کے لیے ایک آئیکن میں تبدیل ہو گئی تھی۔ان کی یہ کامیابی سعودی کھیلوں کی شاندار کارکردگی اور کامیابیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ مشاعل العاید کا بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لینا اس بات کا ثبوت ہےکہ سعودی عرب میں خواتین کے کھیلوں کی نشاۃ ثانیہ اور ترقی کا دور شروع ہو چکا ہے۔