گذشتہ سال عراقی حکام نے ریکارڈ مقدار میں کیپٹاگون گولیاں ضبط کیں جن کی قیمت 144 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی حوالے سے اقوام متحدہ کی پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں خبردار کیا کہ عراق منشیات کی سمگلنگ کے لیے ایک اہم "ہب" میں تبدیل ہو رہا ہے۔
پیر کے روز عراق نے ایک کانفرنس کی میزبانی کی جس میں علاقائی اور عرب ممالک کے وزراء اور حکام نے شرکت کی جس کا مقصد منشیات پر قابو پانے کے شعبے میں مشترکہ تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر نشہ آور کیپٹاگون گولیاں اور میتھم فیٹامین کی بڑی مقدار کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2023ء میں عراقی حکام نے 24 ملین کیپٹاگون گولیوں کی ریکارڈ تعداد" ضبط کی جس کا وزن 4.1 ٹن سے زیادہ ہے اور ان کی مالیت84 ملین ڈالر سے 144 ملین ڈالرز کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2022ء اور 2023ء کے درمیان "کیپٹاگون کی اسمگلنگ میں تقریبا تین گنا اضافہ ہوا۔ پچھلے سال 2019 کے مقابلے میں 34 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کیپٹاگون دہائیوں پرانی منشیات کا پرانا نام ہے، لیکن یہ گولیاں جو ایمفیٹامین پر مبنی ہیں آج مشرق وسطیٰ میں مینوفیکچرنگ، اسمگلنگ، اور یہاں تک کہ کھپت کے لحاظ سے بھی نمبر ایک منشیات بن چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ "عراق مشرق وسطیٰ اور مشرق قریب میں منشیات کی اسمگلنگ کے نظام کے لیے تیزی سے اہم مرکز بننے کے خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ عراق ایک پیچیدہ عالمی منشیات کی اسمگلنگ تنظیم کے چوراہے پر واقع ہے۔"
بغداد اکثر بڑی مقدار میں نشہ آور اشیاء کو ضبط کرنے کا اعلان کرتا ہے، خاص طور پر کیپٹاگون جو بنیادی طور پر شام سے اسمگل کی جاتی ہے وہ ان نشہ آور گولیوں کی تیاری کا اہم ذریعہ بن گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2019 اور 2023 کے درمیان خطے میں پکڑی جانے والی کیپٹاگون گولیوں میں سے 82 فیصد شام سے آئی۔ اس کے بعد لبنان سے 17 فیصداس کی اسمگلنگ کی گئی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ "عراق اور پڑوسی ممالک کے ذریعے منشیات کی منتقلی میں اضافے کے ساتھ ملک بھر میں گھریلو استعمال میں اضافہ ہوا ہے"۔
خطے کے ممالک کی حکومتوں نے حال ہی میں منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
پیر کو بغداد کانفرنس کے دوران عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے کہا کہ عراق’سرحد پار سے ہونے والے جرم‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے برادر اور دوست ممالک کے ساتھ ہر ممکن تعاون یا کوشش کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ"ہم ہر اس کوشش کی حمایت کریں گے جس کا مقصد منشیات کے زہروں کے گڑھوں اور مینوفیکچرنگ پلانٹس کو ختم کرنا ہے"۔
-
عراق کا ترکیہ سے بجلی درآمد کرنے کا اعلان
کئی عشروں کی جنگ نے بجلی پیدا کرنے والے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے
مشرق وسطی -
سعودی عرب: منشیات کے خلاف جنگ، سینکڑوں منشیات فروشوں کو پکڑ لیا گیا
سعودی عرب میں سکیورٹی حکام کی جانب سے ملک میں مختلف سائز اور قسم کی منشیات کی ...
مشرق وسطی -
امارات : 57 بنگلہ دیشی مظاہرین کو قید سنادی گئی، تین کو عمر قید
متحدہ عرب امارات نے زیر حراست بنگلہ دیشی شہریوں کو جیل بھیج دیا ہے۔ جنہوں نے ...
مشرق وسطی