کیا ھنیہ کا قتل ایرانی انٹیلی جنس کی ناکامی کا ثبوت ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کے دور میں سابق معاون وزیر برائے انٹیلی جنس برائے تعلیم رہنے والے محمد رضا تاجک جو مرکز برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ ہیں نے ایک مضمون بعنوان "ھنیہ کا قتل اور مسٹر صدر کے ساتھ مکالمہ" میں لکھا ہے کہ ھنیہ کا قتل ایرانی انٹیلی جنس ناکامی کا واضح ثبوت ہے اصلاح پسند "جماران" ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اس مضمون میں فاضل مضمون نگارنے ایرانی انٹیلی جنس سروسز کی کمزوریوں کے 13 پوائنٹس بیان کیے ہیں۔

صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس کی طرف توجہ دلائی اورکہا کہ "جب تک انٹیلی جنس کو ذہانت کا کھیل نہیں سمجھا جاتا اور معاشرے کے ذہین ترین افراد اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں اٹھاتے، صورت حال جوں کی توں رہے گی اور انٹیلی جنس سروسز ہمیشہ واقعات رونما ہونے کےبعد ان کے نتائج تک پہنچیں گی"۔

’ایران کی انٹیلی جنس ساکھ‘

ایرانی سرزمین پر حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے تاجک جو تہران یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبر بھی ہیں نے وضاحت کی کہ ھنیہ کے قتل کے ساتھ ہی تہران میں زیر حفاظت رہائش ملک کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی ساکھ اور اس کی انٹیلی جنس خدمات میں دراندازی کے بارے میں بہت سے بیانات دیئے گئے تھے۔ یہ قتل گذشتہ 13 سالوں کے دوران دارالحکومت میں ہونے والے قتل کے متعدد اہم واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ "جب تک ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی کا وزیر ایک عالم دین کے بجائے پیشہ ور شخص نہیں ہوگا اس وقت تک اس میں بہتری کے امکانات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مذہبی مبلغ کوانٹیلی جنس وزیر مقرر کرنے سے اس ادارے کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں بہتری نہیں آسکتی۔ اس طرح پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ماہرین کو منتخب کرنے کے بجائے اپنے سینئر ڈائریکٹرز کے انتخاب میں فرقہ وارانہ اور نظریاتی صف بندی کو ترجیح دیتا ہے۔

کمزوری اور نقص

انہوں نےکہا کہ ایرانی انٹیلی جنس اور سکیورٹی سروسز میں کمزوری اور خرابی کی وجہ انتظامی اور پیشہ ورانہ ڈھانچے میں عدم استحکام اور ملک میں مختلف اور مسابقتی انٹیلی جنس سروسز کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ ایجنسیاں سکیورٹی انٹیلی جنس ترجیحات کے لیے اعلیٰ درجہ مختص نہیں کرتی ہیں۔انٹیلی جنس کی تربیت مکمل طور پر جدید اور غیر پیشہ ورانہ نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے حساس اداروں میں دراندازی کرنے والے عناصر کا پتہ نہیں چل سکا ہے اور روایتی انٹیلی جنس اور انسداد انٹیلی جنس طریقوں کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔

انہوں نےکہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل ابھی تک خطرے کی گہرائی اور وسعت کو نہیں سمجھ سکی ہے۔یہ ملک کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو ان کی نااہلی اور بدانتظامی کے لیے جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا ہے اور ان پر قانونی پابندیاں عائد نہیں ہوتی ہیں۔

متعدد کہانیاں

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ ھنیہ کو7 کلو گرام وزنی وار ہیڈ کے ساتھ ایک مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کو فائر کرتے ہوئے مارا گیا۔ اس میزائل کی وجہ سے ان کے کمرے کے اندر ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

ایران نے ہانیہ کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ اس نے امریکی حکومت کے تعاون سے اس کارروائی کی منصوبہ بندی کی اور اسے انجام دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو ہنیہ کے قتل کا "فیصلہ کن جواب ملے گا"۔ تہران اس کا بدلہ مناسب وقت، جگہ اور مناسب طریقے سے لے گا

دریں اثنا امریکی اخبار"نیو یارک ٹائمز" نے 8 اہلکاروں کے حوالے سے جن سے اس نے گذشتہ ہفتے بات کی تھی جن میں دو ایرانی بھی شامل تھے نے کہا کہ ہنیہ کا قتل ایک دھماکہ خیز ڈیوائس سے کیا گیا تھا جو تہران کے گیسٹ ہاؤس میں خفیہ طور پر منتقل کیا گیا تھا۔

اس نے علاقے سے تعلق رکھنے والے 5 اہلکاروں کے حوالے سے بھی بتایا کہ بم تقریباً دو ماہ قبل ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ایک گیسٹ ہاؤس میں چھپایا گیا تھا جو کہ ایک بڑے کمپلیکس کا حصہ ہے۔

سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے قتل کے بعد اسرائیل کو "سخت ترین سزا" دینے کا عزم کیا۔ اس کے جواب میں لبنانی حزب اللہ کے رہ نما حسن نصر اللہ نے کہا کہ "اس کا ردعمل لامحالہ آئے گا۔ تاہم تل ابیب نے اس قتل کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں