حزب اللہ کو اپنے کمانڈر کے قتل کا انتقام کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے؟
اسرائیل حزب اللہ کو فوری اور پوری طاقت سے جواب دے سکتا ہے:مبصرین
دو ہفتے قبل بیروت میں ایران نوازحزب اللہ ملیشیا کے سینیر کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے اس قتل کا انتقام لینے کا عہد کیا ہے۔ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پرممکنہ حملہ یا انتقامی کارروائی پرمبصرین اور لبنانی عوام تشویش اورخوف میں مبتلا ہیں۔
تیس جولائی کو فواد شکر کی بیروت میں ہلاکت کے بعد دونوں طرف جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیل کے اندر سے بھی حزب اللہ کے حملےسے قبل ہی جنوبی لبنان پر حملے کے مطالبات اٹھ رہے ہیں۔
موجودہ اور سابق اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج کی شمالی کمان نے حزب اللہ کے خلاف مزید جارحانہ انداز اختیار کرنے پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینیراسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ "حزب اللہ کی طرف سے کوئی بھی غیر متناسب ردعمل اسرائیلی حملے کا باعث بن سکتا ہے جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر ایک نئی جنگی صورت ھال کو جنم دے سکتا ہے"۔
"ضروری جواز"
اسرائیلی فوج کے ایک سابق انٹیلی جنس اہلکاراور قومی سلامتی سے متعلق مشاورتی فرم مائنڈ اسرائیل کے صدر آموس یادلین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے حملے اور فواد شکر کی ہلاکت پراس کے ردعمل کے بعد تک انتظار کرنا چاہیے۔ جب حزب اللہ حملہ کردے تو اسرائیل کے پاس اس کے جواب کا جواز ہوگا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج کو چاہیے کہ وہ امریکہ کی مدد سےحزب اللہ کو فوری اور ایسا طاقت ور جواب دے جو اس کے پورے وجود کو مفلوج کرکے رکھ دے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کی زیادہ تر صلاحیتوں کی تباہی کے بعد لبنان-اسرائیل کی سرحد پر منتقل ہونے کا وقت آگیا ہے۔
یہ تجزیہ بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں اسرائیلی حکومت کے اندر موجود کچھ آوازوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ بہت سے حکومتی عہدیدار بھی حزب اللہ کو اس کے انتقامی حملے کے بعد فوری اور سخت حملے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
قومی سلامتی کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر ایتمار بن گویر نے ماضی میں متعدد بار حزب اللہ پر حملہ کرنے اور جنوبی لبنان پر حملہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکود پارٹی کے کچھ ارکان بھی ایسا مطالبہ کرچکے ہیں۔
اسرائیل کے وزیر تعلیم اور نیتن یاہو کے اتحاد کے رکن یوف کیش نے گذشتہ اتوار کو ایک ریڈیو انٹرویو میں اشارہ کیا تھا کہ انہیں "لبنان کے اندر حزب اللہ کے خلاف مضبوط جنگ کے بغیر شمالی اسرائیل کی آبادی کو واپس کرنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا"۔
یہاں تک کہ متعدد مرکزی اسرائیلی سیاست دانوں جن میں نیشنل یونٹی پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز نے بھی حزب اللہ کے خلاف جارحانہ اور وسیع جنگ شروع کرنے کی بات کی۔ انہو نے لبنان میں حزب اللہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
بہت سے سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کو طویل عرصے سے ناگزیر سمجھا جاتا ہے اور یہ جنگ بس چھڑنے ہی والی ہے۔
لیکن ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ موجودہ وقت میں حزب اللہ کا ردعمل تل ابیب کو وہ جواز فراہم کر سکتا ہے جس کی اسے کافی طاقت کے ساتھ حملہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے کئی سالوں تک اس کے حملوں کو روکا جا سکے۔
یہ تجزیے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیتن یاہو کی حکومت پر 60,000 سے زیادہ اسرائیلیوں کو واپس کرنے کے لیے زبردست دباؤ ہے جو گزشتہ سات اکتوبر سے حزب اللہ کے تقریباً روزانہ حملوں سے فرار ہو کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔
ایرانی حمایت یافتہ دھڑوں اورملیشیا کے عہدیداروں کی لیکس بھی سامنے آئی ہیں جن میں انہوں نے اطلاع دی کہ تہران نے انہیں مطلع کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ اور تصادم کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ ایران کو خدشہ ہے کہ جنگ کے وسعت اختیار کرنے کی صورت میں تل ابیب ایران کے اندر موجود جوہری مقامات کو نشانہ بنائے گا۔
31 جولائی کو تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو قتل کرنے کے بعد سے یہ خطہ غیر معمولی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سے ایک روز قبل بیرو میں حزب اللہ کے سینیر ترین کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل ایک کھلی جنگ کے دھانے پر آگئے ہیں۔