لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس ’یونیفل نے کہا ہے کہ اتوار کے روز حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان پرتشدد جھڑپ کے دوران لبنان سے داغے میزائلوں میں سے ایک بین الاقوامی امن فوج کے زیرانتظام مقام کے قریب سے فائر کیا گیا۔
’یو این‘ امن فورس نے خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کو ایک بیان میں وضاحت کی کہ اس نے اتوار کی صبح سے ہونے والے حملے میں ’یونیفل‘ آپریشن کے علاقے میں بڑی تعداد میں فضائی حملوں اور میزائل لانچوں کا پتہ لگایا ہے"۔
یونیفل کی ترجمان کینڈائس آرڈل نے کہا کہ "ہم نے الحنیہ میں اپنے ایک مرکز کے قریب راکٹ لانچ ہونے کا پتہ لگایا"۔ وہ جنوبی لبنان کے ایک قصبے کا حوالہ دے رہی تھیں جو اسرائیل کی سرحد سے تقریباً دس کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ دن کے آخر میں میس الجبل سرحدی علاقے میں ’یونیفل’ سائٹ کے قریب ایک دھماکا ہوا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
انہوں نے کہاکہ "ہم تمام فریقین پر مسلسل زور دیتے ہیں کہ وہ بلیو لائن کے اس پار حملے کرنے کے لیے ادارے کے مراکزکے قریب کے علاقوں کواستعمال کرکے امن فوج کو خطرے میں نہ ڈالیں، کیونکہ امن فوج کے مراکز کے قریب کسی قسم کی گولہ باری سلامتی کونسل کی قراراداد 1701 کی خلاف ورزی ہے"۔
قابل ذکر ہے کہ بلیو لائن لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی حد بندی لائن ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 کی جنگ کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ اس میں یونیفل کو وہ سرحد کو کنٹرول کرے اور اس بات کو یقینی بنائے سرحدی علاقے کو کسی بھی قسم کی جنگی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے پیر کے روز کہا تھا کہ فوج نے الحنیہ میں اقوام متحدہ کی ایک سائٹ سے 150 میٹر کے فاصلے پر حزب اللہ کے میزائل داغنے والے مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ ان بیانات پر حزب اللہ کی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
اتوار کے روز حزب اللہ نے گذشتہ ماہ اسرائیلی حملے میں تنظیم کے سینیر فوجی کمانڈر فواد شکر کے قتل کے جواب میں اسرائیلی فوجی مقامات پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔اس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے لبنان میں تقریباً 40 لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا۔