سینئر ڈیجیٹل تارکینِ وطن کے لیے بہترین مقامات؛ دبئی، ابوظہبی درجہ بندی میں سرِ فہرست
درجہ بندی میں اعلیٰ معیارِ زندگی اور فضائی سفر کی سہولیات اہمیت کی حامل ہیں
کرونا کے وبائی مرض کے بعد سے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں میں تبدیل ہونے والے سربراہان کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی ہے جس کے لیے متحدہ عرب امارات سے زیادہ مناسب جگہ کوئی نہیں ہے۔
یہ بات رئیل سٹیٹ بروکر ساولز پی ایل سی کی تحقیق میں سامنے آئی ہے جس نے طویل مدتی دور دراز کارکنوں کی پسند کے مطابق 25 اہم رہائشی علاقوں کی درجہ بندی کی۔
ساولز نے کہا، دبئی اور ابوظہبی مالیات اور مشاورت کے شعبوں میں سینئر ہائبرڈ کارکنان کی بڑی تعداد کو راغب کر رہے ہیں جن میں سے کئی لوگ ان شہروں کے مضبوط فضائی رابطے، جدید انفراسٹرکچر اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی بنا پر مائل ہوئے ہیں۔
ساولز میں ایک عالمی تحقیقی معاون کیلسی سیلرز نے کہا، "لوگ دونوں جہانوں کی بہترین چیزیں چاہتے ہیں - شہر کی رہائشی سہولیات کے ساتھ سمندر کنارے طرز زندگی۔ سرِ فہرست 10 میں سے زیادہ تر اس زمرے میں آتے ہیں اور حالیہ برسوں میں ایسے مقام کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے۔"
وبائی امراض کے بعد سے ہائبرڈ طرز کا کام کرنے کی طرف تبدیلی سے کئی سربراہاں دنیا میں کہیں اور ایک نیا مرکز اور اکثر گرم ساحلی شہروں میں تلاش کرنے پر آمادہ ہوئے جہاں بآسانی قابلِ رسائی ایئرپورٹ ہوں۔ سی بی آر ای گروپ انکارپوریشن کے ایک جائزے کے مطابق اگرچہ یورپی کمپنیاں زیادہ ملازمین کو ان کے ڈیسک پر واپس لانے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں لیکن تقریباً ایک تہائی کمپنیاں بدستور دفتری استعمال کی شرح 40 فیصد سے کم بتا رہی ہیں۔
دریں اثنا جیسے جیسے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کے مخصوص علاقوں میں کرائے بڑھ رہے ہیں، یہ فیصلہ کرتے وقت کہ اگلی دفعہ کہاں جانا ہے، کرائے کی استطاعت اہم عنصر بن گئی ہے۔ ساولز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2022 میں درجہ بندی میں سرِ فہرست لزبن پانچویں نمبر پر رہا کیونکہ شہر میں سال بہ سال کرایوں میں 31 فیصد اضافہ ہوا۔
گوگل کے آنے کے بعد گذشتہ سال رینکنگ میں نیا اضافہ ملاگا صرف دبئی اور ابوظہبی کے بعد تیسرے نمبر پر آیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 لیگ کی درجہ بندی میں نیا اضافہ پالرمو اٹلی میں کرائے کے اعلیٰ ترین مقامات میں سستا ترین ہونے کا فائدہ اٹھا رہا ہے جہاں فلورنس کے مقابلے میں کرائے 70 فیصد تک کم ہیں۔
جزوی طور پر کام پر واپسی کے احکام کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے یقیناً یورپ میں دفتری حاضری بڑھ رہی ہے۔ سی بی آر ای کے مطابق تین چوتھائی کمپنیاں اب کم از کم حاضری کی پالیسی اپنا رہی ہیں جس سے پورے براعظم میں دفتری استعمال کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
ساولز کی کیلسی سیلرز نے کہا، "اگر دفتر میں لوگوں کو زیادہ کثرت سے رکھنے کے لیے زیادہ متفقہ دباؤ ہے تو آپ کو صرف ہوائی رابطے میں اضافہ کی اہمیت نظر آئے گی۔" انہوں نے مزید کہا، اس سے قطع نظر کہ "کاروباری مالکان ہمیشہ اس قابل ہوں گے کہ کسی بھی جگہ رہ کر اور وہاں سے کام کر کے اپنی کمپنیوں کو منظم کر سکیں۔"