یمن میں حوثیوں کے وزیر خارجہ جمیل عامر نے 21 اگست کو تباہ کیے گئے یونانی بحری جہاز کے بارے میں جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ اسے 'ٹگز' کی مدد سے کھینچ کر سمندری راستے سے ہٹا دیا جائے گا۔
واضح رہے یمنی حوثیوں نے کہا ہے کہ ٹگز اتوار کے روز تباہ شدہ یونانی آئل ٹینکر کو کھینچنا شروع کر دیں گی، کیونکہ بحری جہاز بحیرہ احمر میں آگ کی لپیٹ میں ہے۔ 21 اگست کو آج سے گیاہ روز پہلے اس یونانی شناخت کے حامل جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔
بعد ازاں اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ جو ابھی جاری بتائی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بد قسمت جہاز یونان میں رجسٹرڈ ہے۔ اب آگ لگنے کی وجہ سے اس کا ملبہ سمندری سطح پر ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے جا رہا ہے۔
حوثیوں اور سمندری ذرائع نے کہا ہے کہ اس ٹینکر میں دھماکہ خیز مواد بھی موجود ہے۔ جبکہ یہ تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل سے لدا ہوا تھا۔ اس وجہ سے سمندر میں وسیع آلودگی کے خطرہ ہے۔
جمیل عامر نے فیس بک پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا' امید ہے کہ ٹگ بوٹساتوار کو، سونیئن جہاز کو کھینچنا شروع کر دیں گی۔ تاکہ اسے راستے سے ہٹانے کا عمل مکمل ہو سکے۔
خیال رہے بدھ کے روز حوثیوں کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ بحیرہ احمر میں 150,000 ٹن خام تیل کے حامل جہاز کو ریسکیو عملے کو کام کرنے دیں گے ۔ تاکہ سمندر میں اس بھاری مقدار کے تیل کی وجہ سے پھسلاؤ اور آلودگی نہ پیدا ہو سکے۔ اس وقت بتایا گیا تھا کہ جہاز میں 23 اگست سے آگ لگی ہوئی ہے۔
اگر اسے ریسکیو کرنے والے عملے نے علاقے سے نکال کر باہر کرنے کی کوشش نہ کی تو اس سے ریکارڈ آلودگی پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ جس سے بہت وسیع پیمانے پر آلودگی پھیلے گی۔ یہ ماحولیاتی آلودگی علاقے میں بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ نو دوسروں کے لیے بھی خطرناک اور نقصان دہ ہو گی۔
ان ذرائع نے جمعہ کے روز کہا ' بچاؤ کے کسی بھی آپریشن کے لیے جہاز کے معائنہ اور سروے کی ضرورت ہوگی ۔اس کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جا سکے گا کہ اسے سمندر سے نکال کر بندرگاہ تک لے جایا جا سکتا ہے کوئی دوسری تدبیر کر کے اس کا سامان کسی دوسرے جہاز میں منتقل کرنا بہتر اور ممکن ہوگا۔
حوثیوں نے پہلے سے ہی معذور 900 فٹ (274 میٹر) سوونین جہاز پر بم نصب کرنے کے علاوہ متعدد حملے بھی کیے تھے۔ اس جہاز کو ایتھنز میں قائم ڈیلٹا ٹینکرز چلاتے ہیں۔
ایران سے جڑے یمنی حوثی غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں فلسطینیوں کی حمایت کے لیے خطے می اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے جہاز وں کو پچھلے نومبر سے نشانہ بنا رہے ہیں ۔ وہ اسے حماس اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کہتے ہیں اس لیے سمندر میں حملے کر رہے ہیں۔