ملائیشیا، نیوزی لینڈ کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے فوجی و دفاعی تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم اور ان کے نیوزی لینڈ کے ہم منصب کرس لکسن نے پیر کو کہا، وہ غزہ تنازع میں فوری جنگ بندی اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل تلاش کرنے کے معاملے پر متفق ہیں۔
لکسن نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا، "ہم دونوں فوری جنگ بندی، فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دو ریاستی حل تلاش کرنے کے لیے بہت زیادہ متفق ہیں۔"
انور نے کہا، جنگ بندی کے امکانات فی الحال حوصلہ افزا نظر نہیں آتے۔ جو ممالک تنازع روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں خاص طور پر امریکہ، ان کی طرف سے عزم کی کمی ہے۔
انور نے کہا، "واحد امید یہ ہے کہ امریکہ کو مضبوط مؤقف اختیار کرنے کے لیے شامل کیا جائے۔"
مسلم اکثریتی ملائیشیا فلسطینی آزادی کا کٹر حامی ہے اور طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے لیے دو ریاستی حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔
فلسطینی گروپ حماس کی سیاسی قیادت کے ساتھ انور کے اچھے تعلقات ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ گروپ کے عسکری آلات میں ان کا کوئی دخل نہیں ہے۔
ملائیشیا کے سہ روزہ دورے پر آنے والے لکسن نے یہ بھی کہا کہ نیوزی لینڈ ملائیشیا کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دے گا اور ایک مشترکہ مشق کے لیے ملائیشیا کی شمالی ریاست پینانگ میں بٹر ورتھ میں اپنی فضائیہ کا پی آٹھ پوسائیڈن کا گشت اور جاسوسی کرنے والا طیارہ تعینات کر رہا تھا۔