سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر’اثرا‘ کے زیراہتمام رواں برسو کو مملکت میں ’اونٹ‘ کے سال کے طور پر مختلف سرگرمیوں کے ضمن میں ایک خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔
’مرور زمانہ کے ساتھ اونٹ‘ کے عنوان سےمنعقدہ نمائش میں اونٹوں کے حوالے سے پینٹنگز، تصویروں اور مجسموں کی نمائش کی گئی ہے۔ یہ نمائش ’اثرا‘سینٹر میں منعقد کی گئی ہے۔
نمائش کو لیان کلچرل کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔یہ نمائش 29 ربیع الثانی 1446ھ بہ مطابق یکم نومبر 2024ء تک جاری رہے گی۔ اس میں 38 مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں کے 54 فن پاروں کی نمائش کی جائے گی۔
یہ نمائش نئی خصوصیات کے ساتھ ایک قابل ذکر موقع پیش کرتی ہے جس میں اونٹوں کی خوبصورتی کو مجسم کرنے،اونٹوں سے متعلق مواد کو بصری زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ جزیرہ نما عرب میں اونٹوں کی ثقافتی قدر اور سعودی شناخت پر اس کے اثرات کو اجاگر کرنے کے ساتھ تہذیبی ارتقاء اور اقتصادی شعبے میں اونٹوں کی اہمیت کواجاگر کیا جاسکے۔
اس بارے میں ’اثرا‘ پروگرامز کی ڈائریکٹر نورہ الزامل نے وضاحت کی کہ "کیملز تھرو دی ایجز" نمائش فائن آرٹ کی دنیا سے منسلک ہے، جس میں مجسموں اور پینٹنگز کے ذریعے بہت سے متحرک ثقافتی علامتوں کے ذریعےاونٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا۔
لیان کلچرل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ الطبیشی نےکہا کہ ہمیں کنگ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر (اثرا) کے ساتھ تعاون کرنے اور "مرور زمانہ کے ساتھ اونٹ" نمائش کے ذریعے فنی اور ثقافتی دلچسپیوں میں حصہ لینے پر بہت مسرت اور فخر ہے۔اس علمی اور ثقافتی پروجیکٹ کا مقصد بہت سے لوگوں کے علم میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ قدیم زمانے کے ثقافتی ورثے کی ایک اہم حقیقت ہے کیونکہ اس نمائش میں 50 سے زیادہ فن پارے شامل ہیں۔ یہ ایسے فن پارے ہیں جو پوری دنیا سے اور پوری تاریخ میں یہ کام ڈرامیڈری کی تصویر کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔
تُعَد الإبل رمزًا أصيلًا في موروثنا وأيقونة خيرٍ وعطاء، ومصدر فخرٍ واعتزاز.
— إثراء (@Ithra) September 8, 2024
معرض "الجمل عبر العصور" يعكس الأهمية الثقافية للإبل، ودورها العميق في تقاليد أهل البادية والرُّحَّل، بفنونٍ بصرية مبتكرة ومتنوعة.
استكشفوا بهاء المعرض!#عام_الإبل_2024#إثراء@LayanFoundation
انہوں نے کہا کہ سعودی مملکت اپنے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ثقافتی شراکت داری پر زو دیتی ہے۔ اس طرح کی نمائش کا اہتمام سعودی عرب کی ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سعودی عرب ایک بھرپور ثقافتی تحریک کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ انہی کوششوں کے ضمن میں سعودی عرب کی وزارت ثقافت نے سال 2024ء کو اونٹ کا سال قرار دیا۔ حکومت کا مقصد اونٹوں کی موجودگی کو ایک ثقافتی آئیکون کے طور پر زندہ کرنا جو سعودی شناخت کی نمائندگی کرتا اور اس کی موروثی اقدارکی عکاسی کرتا ہے۔ اونٹ یہ تہذیبی ڈھانچے کا ایک لازمی جزو ہے۔
نمائش میں فائن آرٹسٹ عبدالرحمٰن السلیمان، عبدالرحمٰن العقیل، ڈاکٹر منیٰ صلاح الدین المنجد اور فہد النعیمہ کی پینٹنگز کا ایک گروپ شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس میں بڑے فنکاروں کے فن پاروں کا ایک اور گروپ بھی شامل ہے۔ جن میں سے کچھ کا تعلق اٹھارہویں اور انیسویں صدی سے ہے اور دیگر عصری فنکاروں کے فن پارے بھی شامل ہیں جن میں اونٹوں کی دنیا کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔