مغربی کنارے کے علاقے نابلس میں سینکڑوں فلسطینیوں نے اکٹھے ہو کر ترک نژاد امریکی شہری خاتون کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکت پر سوگ منایا ہے۔ تعزیتی اجتماع میں شریک ہونے والے فلسطینیوں نے امریکی خاتون کے اس بہیمانہ قتل پر اسرائیلی فوج کی سخت مذمت کی۔ جبکہ خاتون کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
امریکی شہری خاتون کو پچھلے جمعہ کے روز اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ مقامی فلسطینیوں کے ساتھ مغربی کنارے میں قائم کردہ ناجائز یہودی بستیوں کے خلاف احتجاج میں حصہ لے رہی تھی اور وہ فلسطینیوں کے حق میں نعرے لگا رہی تھی۔
ہلاکت کے بعد اس کے جنازے کے دوران اس کی میت کو فلسطینی پرچم میں لپیٹا گیا اور اس کے سر پر کوفیہ باندھا گیا تھا۔
اس سلسلے میں نابلس کے مقامی ہسپتال میں ایک تعزیتی ریفرنس ہوا۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔
فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی حکام نے میت کو نابلس کی گلیوں میں ایک جلوس کے ساتھ مارچ پاسٹ کیا اور امریکی خاتون کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس دوران فلسطینی سیکیورٹی کا بینڈ بھی بجایا گیا۔
فلسطینی اتھارٹی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی خاتون کو اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز قتل کیا تھا۔ بیتا ٹاؤن کے فلسطینی میئر نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج نے خاتون کے سر میں گولی ماری تھی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج جس نے ابتدائی رد عمل میں کہا تھا کہ ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ اب ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بیتا ٹاؤن کے علاقے میں فائرنگ کی تھی اور جس کے نتیجے میں ایک غیر ملکی کی ہلاکت ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ امریکی شہری خاتون ایک پر امن مظاہرے میں حصہ لے رہی تھی جسے گولی مار دی گئی۔ ترکیہ نے بھی اس خاتون کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ جبکہ امریکہ نے اس کو ایک سانحہ قرار دیا ہے اور اپنے اتحادی اسرائیل سے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں۔
واضح رہے سات اکتوبر کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کے علاقے میں 662 فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ 23 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔