غزہ: بے گھرافراد پرمشتمل سکول پراسرائیلی بمباری،لبنان سرحد پرکشیدگی سےمذاکرات معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج ہفتے کو اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے جنوب میں ایک سکول پربمباری کی جس کے نتیجے میں کم سے کم 13 افراد ہلاک ہوگئے۔

فلسطینی نیوز ایجنسی ’وفا‘ نے مزید کہا کہ اس حملے میں ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا۔

اس تناظر میں غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 41,391 ہو گئی ہے۔

وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ ہفتے کی صبح تک 72 گھنٹوں میں 119 افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سات اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے زخمیوں کی تعداد 95,760 ہو گئی ہے۔

دریں اثنا سفارتی طور پر باخبر ذرائع اور حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے اور قیدیوں کو آزاد کرنے کی امید نہیں کھوئی ہے، لیکن وہ جلد ہی کسی بھی وقت ٹھوس پیش رفت کے حصول کے لیے پرامید نہیں ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ سینر امریکی حکام اس وقت نجی مواقع پر یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ جنوری میں امریکی صدر جو بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے پہلے معاہدہ ہو سکتا ہے۔

بہت سے امریکی عہدیداروں نے امکانات ختم ہونے کی نشاندہی کی، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ مگر امریکی انتظامیہ میں جنگ بندی کے لیے پرامید لوگ موجود ہیں۔

بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ "میں اسے مسترد نہیں کرتا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ باقی خلا کو پر کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے"۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسا ہو جائے گا"۔

اگست کے بعد سے امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن سمیت اعلیٰ امریکی حکام نے جنگ بندی کے حوالے سے توقعات بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے 90 فیصد پر اتفاق ہے اور وہ چند لیکن مشکل اختلافات کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل اور حماس کے مطالبات میں بار بار ہونے والی ایڈجسٹمنٹ کے لیے تقریباً ایک سال سے جاری خونریزی کو روکنے کے لیے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے بڑی مایوسی کا باعث ہے۔

ایسا لگتا تھا کہ حزب اللہ میں "رضوان" کی قیادت کے اجلاس کو نشانہ بنانے اور (پیجرز) اور واکی ٹاکیز کے نام سے مشہور وائرلیس مواصلاتی آلات کے دھماکے کے بعد جنگ بندی کے لیے کسی بھی حل تک پہنچنے کےامکانات معدوم ہوچکےہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں