غزہ کی صحافی شروق العيلة کے لیے بین الاقوامی صحافتی تنظیم کا ایوارڈ

بے گھر ہونے کے باوجود العائلہ غزہ میں جنگ کی کوریج جاری رکھے ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے موجودہ حملے کی کوریج کرنے والی فلسطینی صحافی شروق العيلة کو نومبر میں 2024 کا آزادئ صحافت کا بین الاقوامی ایوارڈ دیا جائے گا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جمعرات کو اس بات کا اعلان کیا۔

سی پی جے نے ایک بیان میں کہا، 29 سالہ العيلة ان چار افراد میں شامل ہیں جنہوں نے "جنگ، جیل، حکومتی کریک ڈاؤن اور اپنے کام کو مجرمانہ بنا دینے کے بڑھتے ہوئے عمل کا سامنا کرتے ہوئے اپنی رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے غیر معمولی چیلنجز کا مقابلہ کیا۔"

العيلة ایک صحافی، پروڈیوسر اور محقق ہیں۔ اکتوبر میں اسرائیلی فضائی حملے میں ان کے شوہر اور فرم کے شریک بانی رشدی سراج ہلاک ہو گئے جس کے بعد انہوں نے غزہ میں قائم ایک آزاد پروڈکشن کمپنی عین میڈیا کی قیادت سنبھالی۔

غزہ میں اسرائیلی حملوں نے 90 فیصد سے زیادہ آبادی کو کم از کم ایک بار ضرور بے گھر کیا ہے اور صحت، صفائی اور پانی کی فراہمی کی خدمات اور تمام رہائشی محلے تباہ ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی بمباری سے بار بار بے گھر ہونے والی العيلة غزہ کے رہائشیوں پر جنگ اور اس کے تباہ کن اثرات کا احاطہ کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

العيلة اور ان کے مرحوم شوہر سراج سعودی عرب میں ایک کاروباری دورے پر تھے جب ان کے آبائی شہر غزہ میں جنگ شروع ہو گئی جس سے وہ تیزی سے نئی پیش رفت کی اطلاع دینے کے لیے واپس آنے پر مجبور ہو گئے۔

سراج 22 اکتوبر کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے اور العيلة نے فوری طور پر ذمہ داری قبول کی اور اپنی کمپنی عین میڈیا کی سربراہی سنبھال لی۔

العيلة کے ساتھ ساتھ اس سال سی پی جے کے آزادئ صحافت کے بین الاقوامی ایوارڈز میں گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والے صحافی کوئمی ڈی لیون، روس میں زیرِ حراست السو کرماشیوا اور نائجر کی ثمیرہ صابو کی خدمات کو بھی تسلیم کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں