امریکی اور سعودی وزراء دفاع کا سکیورٹی چیلنجز پر تبادلۂ خیال

امریکہ لبنان میں اسرائیلی حملے روکنے اور جنگ سے متأثرہ افراد کی بحالی کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری میجر جنرل پیٹ رائڈر نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ جے۔ آسٹن نے جمعہ کو سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے بات کی اور علاقائی سلامتی کے چیلنجوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

پینٹاگون کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک کی "جارحیت کو روکنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں باہمی دلچسپی" پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا، "انہوں نے خطے میں استحکام اور امن کی بحالی میں مدد کے لیے امریکہ اور سعودی عرب کی دفاعی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔"

اتوار کو آسٹن نے پہلی بار یوآو گیلنٹ سے فون پر بات کی۔ پینٹاگون نے پیر کو فون کال کا ایک تحریری بیان شائع کیا اور آسٹن نے ایکس پر ایک واضح بیان شائع کیا جس کا ایک حصہ یوں ہے: "لبنان-اسرائیل سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل کو لبنانی حزب اللہ کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی حمایت کرنی چاہیے۔"

پینٹاگون کے دیگر اعلیٰ حکام بھی اپنے اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں تاکہ یہ بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ ان کی سوچ کیا تھی اور یہ آگے بڑھ رہی ہے۔

خیال ہے کہ تقریباً 70,000 اسرائیلی اسرائیل کے شمالی حصے کو چھوڑ کر مزید جنوب میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ دوسری جانب تقریباً 100,000 لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر مزید شمال یا دارالحکومت بیروت کے قریب چلے جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

آسٹن اور پینٹاگون نے بارہا اسرائیل کے حقِ دفاع کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے لیکن انھوں نے اسرائیلیوں پر لبنان کے اندر حملے یا توسیعی فوجی مہم کے خلاف دباؤ ڈالا ہے۔

پینٹاگون کی پہلی آسٹن-گیلنٹ کال کے تحریری بیان میں کہا گیا کہ آسٹن نے "اسرائیل، لبنان اور وسیع تر خطے کے لوگوں پر کشیدگی کے تباہ کن نتائج" کو نوٹ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں