حزب اللہ کے عہدیداران کو قتل کرنے سے اسے شکست نہیں ہو گی: خامنہ ای

آخری فتح مزاحمتی محاذ اور حزب اللہ کی ہو گی: رہنمائے اعلیٰ کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے رہنمائے اعلیٰ علی خامنہ ای نے بدھ کو کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے اعلیٰ کمانڈروں کی ہلاکت سے گروپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے فوجی اہلکاروں اور 1980-88 کی ایران-عراق جنگ کے سابق فوجیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا، "حزب اللہ کے بعض مؤثر اور قیمتی افراد شہید ہوئے جس سے بلاشبہ اسے نقصان پہنچا لیکن یہ ایسا نقصان نہیں تھا جو گروپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے"۔

نیز انہوں نے کہا، "حزب اللہ کی تنظیمی اور انسانی طاقت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کا اختیار، صلاحیتیں اور طاقت اس سے کہیں زیادہ ہے اور ان شہادتوں سے اس کا کوئی تشویش ناک نقصان نہیں ہو سکتا۔"

اسرائیل نے گذشتہ ہفتے حزب اللہ کے مواصلاتی آلات کو نشانہ بنایا جس کے بعد سے تشدد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کے روز اسرائیلی جنگی طیاروں نے تیسرے دن حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ اس ہفتے کے شروع میں فضائی حملوں میں کم از کم 558 افراد ہلاک ہوئے تھے جو 1975-1990 کی خانہ جنگی کے بعد تشدد کا مہلک ترین دن تھا۔

حزب اللہ نے یہ بھی کہا کہ اس نے بدھ کے روز اسرائیلی شہر تل ابیب پر ایک بیلسٹک میزائل فائر کیا جسے اسرائیلی فوج نے بے مثال قرار دیا۔

خامنہ ای نے کہا، حزب اللہ نے تنازع کے آغاز سے ہی غزہ کی "حفاظت" کی ہے۔

خامنہ ای نے کہا، "آج تک فتح فلسطینی مزاحمت اور حزب اللہ کو ہی ملتی رہی ہے۔ اس جنگ میں آخری فتح مزاحمتی محاذ اور حزب اللہ کی ہو گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں