امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں سفارتی حل پر زور دیا اور کہا کہ "پائیدار سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یہ واحد مستقل حل ہے جو دونوں ملکوں کے شہریوں کو ان کے گھروں کو لوٹنے اور سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا"۔
امریکی صدر کے الفاظ میں ایک غیر واضح انتباہ ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی لبنان اور مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کے دروازے کھول سکتی ہے اور یہ خطے اور دنیا کے ان ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے جو مشرق وسطیٰ کے استحکام ،سلامتی اور تحفظ سے متعلق فکر مند ہیں۔
جھڑپیں
العربیہ/ الحدث نے امریکی موقف جاننے کے لیے بعض امریکی حکام سے بات کی جن کا خیال ہے کہ حزب اللہ نے 8 اکتوبر 2023 سے اب تک جو کچھ کیا ہے یہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کا ایک کھلا حملہ ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف وسیع آپریشن شروع کرنے سے روکنے کے لیے بھی کافی پیش رفت دکھائی۔ خاص طور پر چونکہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس تنظیم کے خلاف ایک بڑا زمینی آپریشن کر رہا ہے۔
امریکہ حزب اللہ کو سرحد سے دور ہٹانا ضروری سمجھتا ہے تاکہ شمالی اسرائیل کی سلامتی کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کی طرح کی کارروائی سے خطرہ نہیں ہونا چاہیے، جس میں 1,200 سے زیادہ اسرائیلی مارے گئے تھے اور کئی سو کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
ان کا خیال ہے کہ امریکی اسرائیلی کارروائیوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، لیکن وہ حزب اللہ کو سرحد سے ہٹنے میں ناکام رہے۔
دوسرا مرحلہ
امریکی حکام اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیل نے امریکی انتظامیہ کو اپنے منصوبوں سے آگاہ نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکیوں کو اطلاع دیے بغیر ہی حزب اللہ کے مواصلاتی آلات پر الیکٹرانک حملہ کیا۔ امریکی اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ حزب اللہ کے رہنماؤں پر اسرائیل کے حملے اور ان کی بڑی تعداد کا خاتمہ بھی واشنگٹن کو بتائے بغیر ہوا۔
اسرائیل نے پچھلے ہفتے جو کچھ کیا اسے امریکہ ، حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے، اس کی قیادت اور لڑنے والے عناصر کے درمیان روابط کو ضرب لگانے، اور ان کے حوصلے پست کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل حزب اللہ کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ وہ ایک طاقتور اسرائیلی قوت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جو حزب اللہ کی سلامتی کے نظام میں گھسنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مزید ضرب
اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل نے محاذ آرائی کا تیسرا مرحلہ شروع کیا ہے۔ ایک سے زیادہ امریکی حکام جن سے العربیہ اور الحدث نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران بات کی تھی، نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے اس مرحلے پر امریکیوں کو اپنے ارادے یا اس کے ہدف سے آگاہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بہت ممکن ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اس نظریہ سے اتفاق کیا کہ یہ مہم ایک ایسے وقت کا باعث بن سکتی ہے جب ہم حزب اللہ کی ہم آہنگی اور حملے کرنے کی صلاحیت میں کمی دیکھ رہے ہیں۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ ضروری نہیں کہ درست ہو، اس لیے کہ "حزب اللہ کے پاس تعداد کے لحاظ سے بہت سی صلاحیتیں ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک مخصوص مدت کے لیے اس کی صلاحیتوں میں خلل ڈال سکتا ہے۔ جیسے کہ حملوں کو مربوط کرنے اور لبنان کے مختلف علاقوں سے اسرائیل کی طرف ایک ہی وقت میں کئی میزائل داغنے کی صلاحیت۔ تاہم، ضروری نہیں کہ یہ درست ہو۔"
امریکی انتباہات
امریکیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل کے پاس بہت سی صلاحیتیں ہیں، جن میں سے کچھ کا علم نہیں ہے، جن میں سے کچھ انتہائی تکنیکی ہیں، اور وہ نسبتاً طویل عرصے تک فضائی مہم چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم، ایک سے زیادہ امریکی عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں فریق، یعنی اسرائیل اور حزب اللہ نے سنہ 2006 میں ایک بڑی جنگ لڑی تھی اور گذشتہ دو دہائیوں کے دوران دونوں فریقوں نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے جو کام کیا ہے وہ سابقہ تجربات پر مبنی ہے۔
امریکی حکام میں سے ایک نے العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم ایک غیر منظم صورتحال نہیں دیکھتے ہیں،"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل وسیع پیمانے پر فضائی آپریشن کرتا ہے اور اس نے اپنی زمینی اور پیادہ صلاحیتوں کا استعمال نہیں کیا ہے۔" دوسری طرف، حزب اللہ نے اپنے پاس موجود کچھ صلاحیتوں کا استعمال نہیں کیا ہے، جیسے کہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اب تک استعمال نہیں کیے اور وہ سرحد کے پار اور تھوڑے فاصلے تک بمباری پر اکتفا کر رہا ہے۔"
انہوں نے خبردار کیا، "کچھ بھی ہو سکتا ہے، اور یہ ایک خطرناک معاملہ ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "زیادہ ہتھیاروں کا استعمال اور خاص طور پر سرحد سے دور شہروں میں متعدد اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا سبب بننا ممکن ہے۔" اگر ایسا ہوا تو یہ مزید سنگین مرحلے کا دروازہ کھول دے گا، اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ یہ دونوں فریقین، یعنی اسرائیل اور حزب اللہ، اور ہر فریق کی حمایت کرنے والوں کو یہ کہاں لے جائے گا۔"
اضافے کے امکانات
کشیدگی کے امکان کے بہت سے منظرنامے ہیں، لہٰذا موجودہ امریکی انتظامیہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے اسے ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
امریکہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں اس کے پاس بڑی صلاحیتیں ہیں اور وہ ان حالات کے لیے تیار ہے۔ امریکی حکام نے گذشتہ چند دنوں میں بتایا ہے کہ ان کے پاس اس خطے میں جنگی فضائیہ کے دستے تعینات ہیں، امریکیوں نے مشرقی بحیرہ روم میں بحری افواج اور ایک طیارہ بردار بحری بیڑا بھی متعین کر رکھا ہے۔
العربیہ اور الحدث سے بات کرنے والے امریکی حکام اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ ہیری ٹرومین اسٹرائیک گروپ بشمول طیارہ بردار بحری جہاز براہ راست مشرق وسطیٰ کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "ابھی یہ امریکی ساحلوں سے آگے بڑھ رہا ہے اور بالٹکس، مشرق وسطیٰ یا کسی اور طرف جا سکتا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ یہ گروپ حالات دیکھ کر اس کے مطابق آگے بڑھے گا۔"
بہت سارے اسرار
اس مرحلے پر ایک ابہام ایرانی موقف ہے۔ امریکی اب اس بنیاد پر کام کر رہے ہیں کہ ایران حزب اللہ کو نہیں چھوڑے گا اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ لیکن ی واضح نہیں کہ اگر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالات خراب ہوئے تو ایران کیا کرے گا؟ "امریکی حکام کا کہنا تھا کہ" ان وجوہات کی بناء پر ہم سب کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔"