پزشکیان سمجھتے ایران کو وسیع جنگ کی طرف نہیں کھینچنا چاہیے: نیو یارک ٹائمز

حسن نصراللہ کے قتل کے بعد خامنہ ای کے بلائے ہنگامی اجلاس میں رد عمل دینے سے متعلق اختلاف سامنے آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اتوار کے روز نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ایرانی قیادت میں اس حوالے سے اختلافات کی نشاندہی کردی کہ اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کے قتل کا جواب کیسے دیا جائے؟ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نصراللہ کے قتل کے بعد ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں اس بات پر اختلاف دیکھا گیا کہ کس طرح جواب دیا جائے۔

نیویارک ٹائمز نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ قدامت پسندوں کا کہنا تھا کہ تہران کو اسرائیل پر حملہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خیال ہے کہ تہران کو وسیع جنگ کی طرف نہیں کھینچنا چاہیے۔ اخبار نے ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے تہران میں ان خدشات کی طرف اشارہ کیا کہ اسرائیل ملک کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف جوابی حملہ کرے گا۔ حکام نے زور دیا کہ تہران اپنے اہم انفراسٹرکچر پر اسرائیلی حملے کو برداشت نہیں کر سکتا۔

نیویارک ٹائمز نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا کہ ہم حزب اللہ کو حسن نصر اللہ کے جانشین کا نام دینے میں مدد کریں گے، ہماری ترجیح حزب اللہ کے لیے ایک محفوظ مواصلاتی نیٹ ورک کی تعمیر ہے، اب ہماری ترجیح حزب اللہ کے لیے قیادت کا ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی سرکاری میڈیا نے ایرانی شوریٰ کونسل (پارلیمنٹ) کے سربراہ محمد باقر قالیباف کے حوالے سے کہا ہے کہ آج اتوار کو مزاحمتی دھڑے ایران کی مدد سے اسرائیل کا مقابلہ جاری رکھیں گے۔ قالیباف نے کہا کہ ہم مزاحمت کی مدد کے لیے کسی بھی سطح تک جانے سے دریغ نہیں کریں گے۔

ہفتے کے روز ایران کی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک اسرائیلی حملے میں اپنے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے قتل کی تصدیق کردی تھی۔ سات اکتوبر کو غزہ پر اسرائیلی جارحیت شروع ہونے کے بعد اگلے روز سے ہی لبنان کی پارٹی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں