ایران میں سخت گیر حلقوں کی جانب سے مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ اسرائیلی دھمکیوں کا سامنا کرنے کے لیے ملک ایٹم بم کا مالک بنے۔
ایرانی پارلیمنٹ میں تیس سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ایٹم بم حاصل کرنے کے لیے اپنے جوہری نظریے پر نظر ثانی کریں۔ اس کا مقصد اسرائیل کی دھمکیوں پر روک لگانا ہے جو ایران پر کاری ضربوں کے ساتھ رد عمل کا اعلان کر چکا ہے۔
ارکان پارلیمنٹ کا یہ مطالبہ قومی سلامتی کی سپریم کونسل کو بھیجے گئے ایک خط میں سامنے آیا ہے۔ یہ بات ایران کے مقامی میڈیا نے جمعرات کے روز بتائی۔
مذکورہ ارکان نے ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فتوے پر نظر ثانی کریں جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ حسن علی امیری کے نزدیک "بین الاقوامی تنظیمیں، یورپی ممالک اور امریکا ان میں سے کوئی بھی اسرائیل کو قابو نہیں کر سکتا جو اپنی مرضی سے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے"۔
امیری کے ساتھ رکن محمد رضا صباغيان کا کہنا ہے کہ "ایران کا ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا یہ جوہری روک اختیار کرنے کا راستہ ہے"۔
ادھر علی خامنہ ای کے مشیر کمال خرازی کا کہنا ہے کہ "اگر اسرائیل نے ایران کو ایٹمی ہتھیار کی دھمکی دی تو ہمارا ملک اپنے جوہری نظریے پر نظر ثانی کر سکتا ہے"۔
مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ میں ایک قانونی بل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد "جوہری صنعت کی توسیع" ہے۔ تاہم اس حوالے سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
اس سلسلے میں ایرانی سیاسی تبصرہ کار مازیار خسروی کا کہنا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کا خط مغربی دنیا میں اسرائیل کے حامیوں کے لیے ایک بھرپور پیغام ہے۔ خسروی کے مطابق جوہری نظریے میں ترمیم کا فیصلہ ارکان پارلیمنٹ کے نہیں بلکہ رہبر اعلیٰ کے ہاتھ میں ہے اور مختصر مدت میں کوئی بھی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔ تاہم اگر اسرائیل نے جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو منظر نامہ الٹ سکتا ہے اور ایران جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدے سے نکل سکتا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن اپنے حلیف اسرائیل کو خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اسی طرح بائیڈن نے تیل کی تنصیبات پر حملے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
تہران زور دے کر یہ کہہ چکا ہے کہ اس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کا نتیجہ "زیادہ بھرپور رد عمل" کی صورت میں آئے گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک جنرل نے خبردار کیا ہے کہ جوہری مقامات یا توانائی کی تنصیبات پر کوئی بھی حملہ "سرخ لکیر" کو تجاوز کرنا شمار ہو گا۔