پچھلے ماہ 27 ستمبر کو لبنان میں قدس فورس کے کمانڈر عباس نیلفروشان کے ساتھ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد سے ایران میں حکمران انتظامیہ اور اس کے حامیوں کے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تہران رضاکار فورسز کو لبنان بھیجے۔
مدد کے لیے اپیلیں
’’پولیٹیکو‘ ویب سائٹ کے مطابق یہ مطالبات اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے خلاف غیر معمولی حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں کیونکہ موجودہ اسرائیلی حملوں نےحزب اللہ کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا اور خود ایران کے لیے ایک مشکل صورتحال بھی پیدا کی ہے۔
لبنانی میدان جنگ خاص طور پر حزب اللہ ایرانی نظریات کو برآمد کرنے کے لیے سب سے کامیاب ماڈل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حزب اللہ کو ایجنٹوں کے نیٹ ورک کا "تاج میں زیور" سمجھا جاتا ہے جسے ایران نے 1980 کی دہائی کے اوائل سے تیار کرنے کے لیے کام کیا ہے۔
ایرانی صدر کے دفتر سے وابستہ "کمیٹی برائے فلسطینی عوام کے اسلامی انقلاب کی حمایت" کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری نے 28 ستمبر کو حکومت کو تجویز پیش کی کہ حسن نصراللہ کے قتل کے بعد لبنان اور شامی گولان میں رضاکار فورس بھیجی جائے۔
اختری جو حزب اللہ کے بانی لوگوں میں سے ایک کے طور پر جانے جاتے ہیں نے 1986ء سے 1997ء تک شام میں ایران کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے تنظیم کے قیام اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران لاتعلق نہیں رہ سکتا لیکن اسے براہ راست لڑائی میں حصہ لینا چاہیے اور اس لیے اسے اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے لبنان اور شام کے گولان میں نوجوان رضاکار بھیجنا چاہیے۔
باسیج ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ رضاکار نیم فوجی دستے نے لبنان بھیجنے کے لیے شہریوں کو رجسٹر کرنے کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی کھولے۔
بعد ازاں پاسداران انقلاب کے بانیوں میں سے ایک محسن رفیق دوست نے تین اکتوبر کو ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ لبنان اور شامی گولان میں فوجی دستے بھیجنے کا آپشن ایرانی فیصلہ سازوں کی میز پرموجود ہے۔
اسپاٹ لائٹ اور انتقامی حملوں کے تحت
ایرانی حکام نے فوری طور پر واضح کیا کہ وہ ان کالز کا جواب دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ 30 ستمبر کوایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اعلان کیا تھا کہ تہران لبنان میں رضاکار فورس نہیں بھیجے گا، ان کا کہنا تھا کہ لبنان اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر محمد رضا ناغدی نے چھ اکتوبر کو مزید کہا کہ تہران لبنان میں فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ "مزاحمتی محاذ" کے لیڈروں نے افرادی قوت کی کمی کی اطلاع نہیں دی اور اس وجہ سے ایران سے ایسی مدد کی درخواست نہیں کی۔
اس کے باوجود رپورٹس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ایران نے اس سے قبل گذشتہ دہائی کے دوسرے نصف میں قدس فورس، ایرانی فوج، حتیٰ کہ ایرانی پولیس اور پسیج کے ہزاروں جنگجوؤں کو شام اور عراق کے میدان جنگ میں بھیج دیا تھا۔
-
غزہ جنگ کی مثال، کیا نیتن یاھو لبنان جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں؟
رواں ماہ کے اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان میں "محدود زمینی آپریشن" ...
مشرق وسطی -
بیلجیئم کی فوج نے لبنان سے 100 یورپی باشندوں کا انخلاء مکمل کر لیا
برسلز میں حکومت نے بتایا کہ جمعرات کی شام بیلجیئم کے ایک فوجی طیارے کے ذریعے 100 ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ کے خلاف اثرانداز ہونے پر بلنکن کی جانب سے لبنانی ریاست کی حمایت
امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں لبنانی ...
بين الاقوامى