سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ مملکت میں چار ہوائی اڈے نجی شعبے کے انتظام کے لیے اگلے سال دستیاب ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب علاقائی سپلائی چینزاور سبز توانائی پیدا کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔
الفالح نے اتوار کو ریاض میں عالمی لاجسٹک فورم سے خطاب میں مزید کہا کہ سعودی عرب مشرق و مغرب اور شمال اور جنوب کے سنگم پر ہے اور وہ لاجسٹک سپلائی چین کے مراکز قائم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں ایک اہم چیز دیکھ کر خوش ہوں۔ سعودی عرب اور مصر کے درمیان بحری مواصلات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور عمان بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم لازمی طور پر خلیجی ممالک میں ریلوے نیٹ ورک ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔
خلیجی ریلوے نیٹ ورک پہلے سے موجود 30 بندرگاہوں میں اضافہ کرے گا، جو کہ نقل و حمل کے 80 فیصد کا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے صاف توانائی کی طرف منتقلی اور اس کے لیے نقل و حمل کے ذرائع کی تیاری کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بندرگاہوں کی زیادہ مانگ ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب سبز توانائی پیدا کرنے میں ایک اہم ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ قابل ذکر ہے کہ عالمی لاجسٹکس فورم کا آغاز کل ریاض میں ہوا تھا۔ اس میں شامل سیشنزمیں عالمی تجارت، لاجسٹکس کے شعبے میں جدید ترین تکنیکی پیش رفت، ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے موضوعات پر بات گئی۔
فورم کے شرکاء کو لاجسٹک سیکٹر کی ترقی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے تعاون کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے فیصلہ سازوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا بھی موقع ملے گا۔
یہ فورم دنیا بھر سے لاجسٹک سیکٹر کی لیڈنگ کلاس کو ایک چھتے تلے جمع ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ اہم رجحانات، اس شعبے کو درپیش چیلنجز اور دستیاب مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
ورلڈ لاجسٹک فورم 2024ء ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو عالمی لاجسٹک خدمات کے مستقبل کے نقشے کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیےکام کررہاہے۔
یہ فورم جدید ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش اور لاجسٹک خدمات میں جدید حل کی حمایت کرتے ہوئے عالمی مواصلات کی رہ نمائی کے لیے کئی اقدامات شروع کرے گا۔