اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے منگل کے روز لبنان میں تعینات اپنے ملک کے تمام فوجیوں کے لیے حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ کیا جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین تنازع کے باعث اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر فائرنگ ہوئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے امن مشن یونی فِل میں اٹلی کے فوجی تعینات ہیں جو مقامی مسلح افواج کو تربیت دیتے ہیں۔ لبنان میں اقوامِ متحدہ کی عبوری فوج میں ایک ہزار سے زیادہ اطالوی فوجی موجود ہیں۔
جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے متعدد مقامات کے گولیوں کی زد میں آنے کے بعد سلامتی کونسل نے پیر کے روز تشویش کا اظہار کیا اور نام لیے بغیر تمام فریقوں پر یونی فِل اہلکاروں اور احاطے کی حفاظت اور سلامتی کا احترام کرنے پر زور دیا۔
میلونی نے اسے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار داد کی "صریح خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی افواج کا رویہ مکمل طور پر غیر منصفانہ ہے۔"
اٹلی کی سینیٹ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات قابلِ قبول نہیں تھے اور یہ کہ انہوں نے اس مؤقف کا اظہار اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے کیا تھا۔
کیا وہ لبنان کے دورے پر غور کر رہی ہیں، اس سوال کے جواب میں میلونی نے صحافیوں کو بتایا: "جی ہاں۔"
نیتن یاہو نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے لبنان میں یونی فِل کے امن دستوں کو دانستہ نشانہ بنایا ہے اور وہ امن فوجیوں کی جنگی علاقوں سے دستبرداری چاہتے ہیں۔
اٹلی نے اسرائیل سے احتجاج کیا ہے اور امن فوجیوں پر حملوں کی مذمت میں اتحادیوں کا ساتھ دیا ہے۔
میلونی نے کہا کہ حزب اللہ نے بھی اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کی اور "یونی فِل کے دائرہ اختیار کے تحت علاقے کو فوجی بنانے" کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا، اٹلی یونی فِل اور لبنانی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا، روم گذشتہ سال سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کو نہیں بھولا اور اٹلی کی ہمدردیاں غزہ میں بدستور قید 100 سے زائد اسرائیلی یرغمالیوں کے ساتھ ہیں۔