بلنکن کا دورۂ اسرائیل: غزہ جنگ ختم کرنے کا 'یہی وقت ہے'

اسرائیل پر سنوار کی ہلاکت سے استفادہ کرنے اور فلسطینی علاقوں میں امداد میں اضافے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے بدھ کو کہا ہےکہ غزہ میں تنازع ختم کرنے کا "یہی وقت ہے"۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید کشیدگی سے گریز کرے۔

وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں کے بعد اسرائیل سے روانگی کے وقت بلنکن نے کہا، "ایک سال پہلے سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے اپنے زیادہ تر تزویری مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کامیابیوں کو پائیدار تزویری کامیابی میں بدلا جائے۔"

غزہ کی امداد کے بارے میں بلنکن نے کہا کہ انہوں نے "پیش رفت ہوتی دیکھی ہے جو اچھی بات ہے لیکن مزید پیش رفت کی ضرورت ہے اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔"

یکم اکتوبر کو ایران کے میزائل حملے کا بدلہ لینے کے اسرائیل کے عزم کے بارے میں اعلیٰ امریکی سفارت کار نے کہا: "یہ بھی بہت اہم ہے کہ اسرائیل ایسے طریقے سے جواب دے جس سے زیادہ کشیدگی پیدا نہ ہو۔"

امریکی سفارت کار نے اسرائیل پر زور دیا کہ اسرائیل کے لیے سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کی طرف بڑھنے کا ایک "ناقابلِ یقین موقع" ہے جس سے اسے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

یرغمالی بدستور غزہ میں

منگل کو نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ملاقات میں بلنکن نے اپنے اتحادی پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کی جانب کام کرنے کی غرض سے غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی ہلاکت سے فائدہ اٹھائے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ یروشلم میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران بلنکن نے سنوار کی موت سے "استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا"۔

انہوں نے مزید کہا، یہ عمل "تمام یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے اور غزہ میں تنازعہ کو اس طرح ختم کر کے کیا جائے جس سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو یکساں طور پر پائیدار تحفظ ملے"۔

وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق انہوں نے بلنکن کو بتایا، سنوار کی موت "یرغمالیوں کی واپسی پر مثبت طور پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔"

بلنکن نے محصور غزہ میں مزید امداد کو ممکن بنانے کے لیے بھی دباؤ ڈالا کیونکہ دشوار گذار شمالی علاقے میں پھنسے ہوئے دسیوں ہزار شہریوں کے لیے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

خروج

لبنان میں اسرائیلی فوج نے صور کے بعض حصوں میں لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی کارروائیوں سے پہلے علاقوں سے نکل جائیں۔

اسی دوران لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے بدھ کے روز ضلع صور کے کئی حصوں پر "دشمن کے شدید حملوں" کی اطلاع دی۔

منگل کے روز اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے تین ہفتے قبل ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد ان کے ممکنہ جانشینی کو ہلاک کر دیا تھا۔

حزب اللہ نے ہاشم صفی الدین کی ہلاکت پر کوئی تصدیقی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن گروپ کے قریبی ایک اعلیٰ سطحی ذریعے نے کہا تھا کہ حملوں کے بعد سے مذکورہ رہنما سے رابطہ منقطع تھا۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے ایک بیان میں کہا، "ہم نصر اللہ، ان کے متبادل اور حزب اللہ کی زیادہ تر اعلیٰ قیادت تک پہنچ چکے ہیں۔"

رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کا نیا انتباہ جاری کرنے کے بعد اسرائیلی فوج نے منگل کے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر دوبارہ حملہ کیا جو کبھی حزب اللہ کا مضبوط قلعہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں