لبنانی شہر بعلبک میں تاریخی عمارت پر بھی اسرائیلی گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

حالیہ عرصے کے دوران مشرقی لبنان کے شہر بعلبک کو اسرائیل کی جانب سے بار بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں حزب اللہ کے رہنما چھپے ہوئے ہیں۔

بالمیرا ہوٹل، جو شہر کے قائم کردہ سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے، بھی بدھ کو اسرائیلی حملوں سے محفوظ نہیں رہا۔

اس ہوٹل نے فن کے بارے میں معروف شخصیات کی میزبانی کی ہے۔ ان فنکاروں میں فیروز، ودیع الصافی، صباح، الاخوان رحبانی، فرید الاطرش، ام کلثوم، درید لحام اور دیگر شامل ہیں

دریں اثنا ہوٹل پر ہونے والی تباہی کی ویڈیوز اور اس کمرے کی تصاویر جہاں فیروز بعلبیک انٹرنیشنل فیسٹیولز میں اپنے کنسرٹس میں پرفارم کرنے کے دوران ٹھہرتی تھیں سوشل میڈیا پر پھیل گئیں۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ کمرہ تباہی کا شکار ہو گیا ہے۔

عثمانی دور کی عمارت

واضح رہے بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں بعلبیک کے مندروں کے قریب عثمانی دور کی ایک عمارت کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ یہ عمارت اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ لبنان میں آثار قدیمہ کے سب سے اہم مقامات میں سے ایک پر اسرائیلی بمباری کی گئی۔

أنقاض مبنى في حي المنشية التاريخي (رويترز)
أنقاض مبنى في حي المنشية التاريخي (رويترز)

جمعرات کو حملے کے ایک دن بعد بعلبک کے مندروں سے محض درجنوں میٹر کے فاصلے پر ایک جلتی ہوئی بس کے پاس بھوری رنگ کے پتھروں اور بٹی ہوئی دھاتوں کے ڈھیر نظر آئے۔ یہ تباہی حملوں کی لہر کے ایک حصے کے طور پر سامنے آئی۔ ان حملوں میں شہر اور اس کے اطراف 40 افراد جاں بحق ہوگئے۔

قیمتی عمارت کی تباہی

اپنی طرف سے بعلبیک کے گورنر بشیر خضر نے رائٹرز کو بتایا کہ تاریخی المنشیہ کالونی میں تباہ شدہ عمارت، جو قدیم مندر کی جگہ کے باہر واقع ہے، ایک قیمتی عمارت ہے اور اپنے آپ میں قدر و قیمت رکھتی ہے کیونکہ اس کی تاریخ عثمانی دور کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کالونی عام طور پر سیاحوں سے بھری رہتی ہے۔ تاہم حملے کے وقت اس عمارت کے اندر کوئی نہیں تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ مندر کے احاطے کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔ اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ محافظوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمارت کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی واضح نقصان نہیں پہنچا لیکن اس جگہ کا معائنہ کرنے کے لیے ماہرین، انجینئرز اور آثار قدیمہ کے ماہرین کی ضرورت ہے۔

تین مقامات

بعلبیک انٹرنیشنل فیسٹیولز میں میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ مایا حلبی نے کہا ہے کہ عثمانی دور کے تین مقامات کو نقصان پہنچا ہے جن میں غورو بیرک، بالمیرا ہوٹل اور الابعا ہاؤس شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الاکروبولیس، جہاں سے مندر صرف چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں" کو اب تک کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

2670 سے زیادہ افراد جاں بحق

واضح رہے 23 ستمبر سے اسرائیل نے بیروت کے قریب اور ملک کے جنوب اور مشرق میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں پر اپنے فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایک سال سے جاری اسرائیلی حملوں کے باعث لبنان میں 2670 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں