اسرائیل میں سینیئر سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ غزہ سے افواج کے ممکنہ انخلاء اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اسرائیل کے مؤقف میں زیادہ لچک کی ضرورت ہے تاکہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب تعطل کا شکار ہونے والے مذاکرات نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مشاورت کے لیے اپنی کابینہ کا اجلاس بلانے پر مجبور کیا۔ یہ ایک اجلاس ہے جس میں وزیر دفاع یسرائیل کاٹز، وزیر خارجہ گیڈون سار، سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر، وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر شامل ہیں۔
اس اجلاس میں اسرائیلی حکومت کے اندر تقسیم پر توجہ مرکوز کی جائے گی جس میں، اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سموٹریچ اور بین گویر نے دھمکی دی تھی کہ اگر کوئی معاہدہ ہوا تو وہ اتحاد کو تحلیل کر دیں گے۔
سکیورٹی حکام کا اندازہ ہے کہ غزہ میں 400 سے زائد دنوں تک یرغمال بنائے گئے 101 میں سے صرف 51 زندہ بچ پائے ہیں اور انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ کسی رعایت کیے بغیر یرغمالیوں کو ان کی قسمت پر چھوڑتے ہوئے کسی معاہدے پر پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔ جیسے جیسے موسم سرما قریب آرہا ہے خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ ان میں سے زیادہ لوگ غزہ کی سرنگوں کے اندر مر جائیں گے۔
علاقائی پیش رفت اور امریکہ میں ٹرمپ کے دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے سے نئی کوششوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ انٹرنل سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ رونن بار، آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی اور موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بار نے وزیر دفاع کاٹز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے حکمت عملیوں کا جائزہ لیا۔
حکام اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل کو اس امکان کا سامنا کرنا ہوگا کہ حماس غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور جنگ کے خاتمے کے بغیر کسی معاہدے پر رضامند نہیں ہوگی۔ اگرچہ قطر نے ثالثی سے خود کو دور کر لیا ہے لیکن وہ پس پردہ اب بھی مذاکرات میں شامل ہے۔ مصر مذاکرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے وہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا ترکیہ کو بھی کوششوں میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔