ریاض میٹرو پروجیکٹ کی باضابطہ آپریٹنگ کی تکمیل کے بعد جلد اس کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔ یہ میگا پروجیکٹ سعودی عرب کے دارالحکومت میں عوامی نقل و حمل کے نظام میں سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک کی تیاری کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو ٹرانسپورٹ کے میدان میں ایک معیاری جست سمجھا جاتا ہے جوکہ آبادی میں اضافے کو سپورٹ کرنے والے جدید انفراسٹرکچرکی تعمیر اور معیار زندگی کے لیے مملکت کے عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
ریاض میٹرو دارالحکومت میں شہری نقل و حمل کے ترقیاتی منصوبے کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ یہ 176 کلومیٹر کی لمبائی میں شہر کے مختلف محلوں کو جوڑنے والی چھ مرکزی لائنوں پر محیط ہے۔اس میں 85 اسٹیشنز شامل ہیں۔ان میں 8 مرکزی اسٹیشن بھی شامل ہیں۔
بین الاقوامی نمبروں کے ساتھ ایک پروجیکٹ
ریاض میٹرو کی گنجائش یومیہ 1.16 ملین مسافروں تک پہنچ سکتی ہے۔ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچنے والی ٹرینوں سے پرائیویٹ کاروں پر انحصار کم کرنے میں مدد ملےگی۔منصوبے کی لاگت 22.5 ارب ڈالر ہے جو دنیا میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
پروجیکٹ سے متعلقہ حکام نے اعلان کیا کہ ریاض میٹرو 27 نومبر 2024ء بروز بدھ کو باضابطہ طور پر کام شروع کرے گی۔ پہلے مرحلے کے آغاز میں تین اہم لائنیں کو فعال کیا جائے گا۔ یہ جزوی آپریشن نومبر 2024ء میں شروع ہونے والے آزمائشی مرحلے کے بعد آرہا ہے۔ اس نظام کی کارکردگی اور تیاری کو یقینی بنانے کے لیے 2025ء کی پہلی سہ ماہی تک مراحل میں جاری رہے گا۔
اس منصوبے کا مقصد سڑکوں پر کاروں کی تعداد کو یومیہ 20 لاکھ ٹرپس سے کم کرنا ہے، جو مملکت کے سب سے زیادہ گنجان شہروں میں سے ایک میں ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے میں معاون ہوگا۔ اس کے علاوہ اس منصوبے سے کاربن کے اخراج میں سالانہ 400,000 ٹن کی کمی متوقع ہے جو کہ ماحولیاتی پائیداری کے معیارات کے لیے مملکت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وژن 2030 کے حصول کا ایک ٹول
ریاض میٹرو مملکت کے وژن 2030ء کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک ضروری ستون ہے جو عوامی نقل و حمل کے لیے ایک پائیدار حل فراہم کر کے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد گار ہوسکتا ہے۔ یہ منصوبہ جدید ترین قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز پر بھی انحصار کرتا ہے، جو اسے خطے میں سب سے زیادہ موثر اور پائیدار نقل و حمل کے نظام میں سے ایک بناتا ہے۔
ریاض کے رہائشی پرجوش طریقے سے ریاض میٹرو کے آپریشنل مرحلے کی توقع کر رہے ہیں، جو دارالحکومت کے اندر نقل و حمل کے نظام کو یکسر تبدیل کر دے گا۔ یہ منصوبہ شہری نقل و حرکت کے ایک نئے دور کے آغاز کی نمائندگی کرتا ہے اور جدت اور ترقی کے لیے مملکت کی وابستگی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس منصوبے سے ریاض کی پوزیشن سب سے نمایاں عالمی شہروں میں ہوگی۔