شام کے فوجی کنٹرول کے نقشے میں ابھرنے والے پانچ اہم کھلاڑی کون سے ہیں؟

طویل سکون کے بعد شام میں ڈرامائی انداز میں حکومت مخالف مسلح گروپوں کا کئی اہم شہروں پر کنٹرول کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

ھیۃ تحریر الشام اور اس کے اتحادی دھڑوں نے ایک اچانک حملے کے بعد حلب میں تیزی سے پیش قدمی کرکے شامی حکومت ہی نہیں بلکہ اس کے اتحادیوں اور پوری دنیا کو حیران کردیا۔اس سے 2011ء میں شامی خانہ جنگی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی یاد تازہ ہوگئی ہے جب شام کا بیشتر حصہ اسد رجیم کے کنٹرول سے باہر ہوگیا تھا۔

حالیہ فوجی کشیدگی کئی برسوں کے نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ فوجی کنٹرول کے نقشے کو نئے سرے سے تبدیل کرنے کے بعد حکومتی افواج اپنے اتحادیوں کی مدد سے اپوزیشن کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی تھیں مگر کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ شکست خوردہ گروپ دوبارہ پوری قوت سے حملہ آور ہوں گے۔

شام میں عسکری قوتیں، جن میں سے زیادہ تر کو بین الاقوامی یا علاقائی حمایت حاصل ہے کس طرح تقسیم کی جاتی ہیں؟۔

ھیۃ تحریر الشام

شام میں 27 نومبر سے شروع ہونے والے حملے سے پہلے ھیۃ تحریر الشام جو ماضی میں ’النصرہ فرنٹ‘ کہلاتی تھی اور القاعدہ کا حصہ رہ چکی ہے اور اس کے اتحادی دھڑوں نے ادلب گورنری (شمال مغربی) کے تقریباً نصف اور ملحقہ محدود حصوں پر کنٹرول کر لیا۔ اس نے حلب، حماۃ اور لاذقیہ گورنریوں کا تقریبا تین ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ چھین لیا۔

خطے میں اپوزیشن کے کم بااثر دھڑوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند جہادی گروپ بھی ہیں جن کی طاقت میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔ ان میں "ترکستان اسلامک پارٹی" شامل ہے جس میں ایغور جنگجو ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 50 لاکھ لوگ دھڑوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر دوسری گورنریوں سے بے گھر ہوئے ہیں۔

اس اچانک حملے کے بعد، جسے برسوں میں سب سے زیادہ پرتشدد سمجھا جاتا ہے دھڑوں نے اپنے کنٹرول کے علاقے کو دوگنا کر دیا۔ شامی امور کے ماہر فابریس بالانش کے مطابق حلب شہر، وسطی حماۃ اور ادلب کے دیہی علاقوں کے درجنوں قصبوں اور شہروں پر ان کا کنٹرول ہے۔

حکومتی افواج

خانہ جنگی کے پہلے سالوں کے دوران حکومتی فورسز نے ملک کے زیادہ تر علاقے کو مخالف دھڑوں، کرد جنگجوؤں اور پھر ISIS کے ہاتھوں کھو دیا، لیکن ستمبر 2015ء میں روسی مداخلت نے بتدریج زمینی طاقت کے توازن کو ان کے حق میں موڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بالانش کے مطابق روسی فضائی مدد، ایرانی فوجی مدد اور لبنانی حزب اللہ کے ساتھ حکومتی افواج نے بدھ کو دھڑوں کے حملے شروع ہونے سے پہلے، ملک کے دو تہائی علاقے پر کنٹرول کر لیا، جہاں 12 ملین افراد رہائش پذیر ہیں۔

آج حکومتی افواج دمشق اور اس کے دیہی علاقوں کے علاوہ جنوب میں سویدا، درعا اور قنیطرہ، حمص، حماۃ، طرطوس اور لطاکیہ کے سب سے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔

یہ حلب گورنری کے کچھ حصے، جنوبی رقہ کے دیہی علاقے اور دیر الزور گورنری کے نصف حصے پر بھی شامی حکومتی فوج کا کنٹرول ہے۔

حکومت افواج کو مقامی گروہوں کی مدد حاصل ہے۔ ان کی وفادار قومی دفاعی افواج اور دیگر ایران کے وفادار جن میں افغان، پاکستانی، عراقی اور لبنانی حزب اللہ کے جنگجو شامل ہیں۔

شامی فوج بنیادی طور پر دیر الزور میں الورد، التیم، الشولہ اور نشان آئل فیلڈز، رقہ میں الثورہ فیلڈ اور حمص میں جزل فیلڈ کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس میں الشعر فیلڈ، سب سے بڑا گیس فیلڈ اور حمص میں صاد اور اراک فیلڈز بھی ہیں۔

شامی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں میں روسی فوجیوں کے لیے متعدد کیمپ قائم ہیں۔

ماسکو کے مطابق گذشتہ برسوں میں 63,000 سے زائد روسی فوجیوں نے شام میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ شام میں اس وقت کتنی روسی افواج موجود ہیں لیکن شام میں روس کے دو نمایاں فوجی اڈے ساحلی شہر لطاکیہ کے قریب حمیمیم ہوائی اڈہ اور دوسرا طرطوس کی بندرگاہ میں روس کے پاس ہے جس میں بنیادی طور پر ایک روسی کمپنی کی سرمایہ کاری ہے۔

کرد جنگجو

سنہ 2012ء کے بعد کردوں نے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں (شمال اور مشرق میں) میں "انتظامیہ" کے قیام کا اعلان کیا جب شامی فوج بغیر کسی تصادم کے ان کے ایک بڑے حصے سے دستبردار ہو گئی۔ان علاقوں میں بتدریج کرد جنگجوؤں کے ساتھ امریکی فوج بھی تعینات ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ شام میں داعش کے خلاف لڑائیوں میں مصروف ہے۔

سنہ 2015 میں، "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" کا قیام عمل میں آیا تھا، اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ہیں، جن میں عرب اور شامی عیسائی دھڑے شامل ہیں۔ ’ایس ڈی ایف‘ خود مختار انتظامیہ کا عسکری ونگ سمجھا جاتا ہے۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز جنہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں اہم خدمات انجام دیں شامی فوج کے بعد زمین پر قبضہ کرنے والی دوسری فوجی قوت ہے۔ آج یہ ملک کے تقریباً ایک چوتھائی رقبے پر قابض ہے، جہاں تقریباً تیس لاکھ لوگ رہتے ہیں، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ کرد ہیں۔

آج ان فورسز کے کنٹرول کے علاقوں میں شمال مشرق میں الحسکہ گورنری شامل ہے جہاں شامی فوج قمشلی اور الحسکہ شہروں میں اداروں کے ذریعے چند محلوں میں موجود ہے۔ اس کا کنٹرول رقہ گورنری کی اکثریت پر بھی ہے۔ رقہ شہر جو برسوں سے ’آئی ایس آئی ایس‘ کا گڑھ رہا اب ایس ڈی ایف کے قبضے میں ہے۔ اس کے علاوہ کرد جنگجو دیر الزور گورنری کے نصف حصے پر بھی کنٹرول کرتے ہیں حلب شہر کے شمال میں واقع محلوں اور گورنری کے محدود علاقوں پر بھی ہے۔

شام کے سب سے نمایاں آئل فیلڈز اس کے کنٹرول میں ہیں، جن میں العمر، جو ملک کا سب سے بڑا ہے، اور دیر الزور میں التناق اور جعفرا کے ساتھ ساتھ الحسکہ اور رقہ میں چھوٹے آئل اور گیس فیلڈز بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیر الزور میں کونیکو گیس فیلڈز اور حسکہ میں سویڈش گیس فیلڈز انہی کے کنٹرول میں ہے۔

امریکی افواج کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف "بین الاقوامی اتحاد" کے اندر تعینات ہیں۔ یہ جنوبی شام میں التنف اڈے پر موجود ہیں جو 2016 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ اڈاہ اردن-عراق سرحد کے قریب بغداد-دمشق شاہرا پر واقع ہے۔

ترکیہ کے وفادار گروپ

سنہ 2016ء کے بعد سے ترکیہ نے اپنے وفادار شامی دھڑوں کے ساتھ مل کر شمالی شام میں کئی فوجی کارروائیاں کیں، خاص طور پر کرد جنگجوؤں کو اپنی سرحدوں سے دور دھکیلنے کے لیےانہیں نشانہ بنایا۔

ترک افواج اور ان کے وفادار دھڑے حلب کے شمال مشرقی دیہی علاقے جرابلس سے اس کے مغربی دیہی علاقوں میں عفرین تک پھیلی سرحدی پٹی کو کنٹرول کرتے ہیں، جو الباب اور عزاز جیسے بڑے شہروں سے گزرتی ہے۔

وہ سرحدی شہروں راس العین اور تل ابیض کے درمیان 120 کلومیٹر طویل ایک علیحدہ سرحدی علاقے کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔

اس میں انقرہ کے وفادار دھڑے شامل ہیں اور اس سے وابستہ جنگجو گروپ ہیں جنہیں "سیرین نیشنل آرمی‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ترک نواز گروپ بنیادی طور پر شمال میں سرگرم ہیں۔ سلطان مراد دھڑا اور دوسرے ترک شمالی شام میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ابھرے، جن میں "الحمزہ" اور "سلیمان شاہ" دھڑے شامل ہیں۔

داعش

سنہ 2014ء میں شام اور عراق میں بڑے علاقوں کو کنٹرول کرنے کے بعد شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کو دونوں ممالک میں پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ 2019ء میں اس کے زیرکنٹرول تمام علاقے اس سے چھین لیے گئے۔ تب سے اب تک تنظیم کے چار رہنما مارے جا چکے ہیں، لیکن اس کے چھپے ہوئے ارکان ہیں اب بھی موجود ہیں۔ وہ اب بھی کئی سمتوں سے حکومت کے خلاف محدود حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

داعش اکثر شامی فوج کے خلاف وسیع شام کے صحرائی علاقے میں حملوں کا دعویٰ کرتی ہے۔

اس کے جنگجو اب بھی دیر الزور گورنری میں سرگرم ہیں، جو شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کرتے ہیں، اور شامی فوج اور "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں