فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورس نے بھی مغربی کنارے کے شہر جنین میں فلسطینیوں کو اپنے نشانے پر لے لیا ہے۔ یہ واقعہ جمعرات کے روز پیش ایا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی تلاش میں تھی ۔ اس دوران رات ساڑھے نوبجے کے قریب جب اس کے سیکیورٹی اہلکار جنین پناہ گزین کیمپ کے ارد گرد تعینات کیے گئے۔
' اے ایف پی ' کے مطابق یہ علاقہ فلسینی مزاحمت کاروں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق فلسطینی سیکیورٹی فورس نے اس علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور سارے راستے بند کرد یا۔
بتایا گیا ہے اس علاقے کے فلسطینیوں نے اتھارٹی کی دو گاڑیوں کو اپنے پاس بند کر لیا تھا۔
واضح رہے اسرائیلی قابض فوج فلسطینی علاقوں کو اس طرح گھیرے میں لیتی رہتی ہے۔ جمعرات کے روز صبح سے ہی اس علاقے میں کشیدگی کا ماحول رہا۔ یہ کشیدگی فلسطینی اتھارٹی کی گاڑیوں کو اس علاقے میں روکے جانے سے شروع ہوئی۔
فلسطینی اتھارٹی کے بقول دو گاڑیاں فلسطینی مزاحمت کاروں نے روکی تھیں۔ یہ گلیوں میں اسلامی جہاد کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور نعرے آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ فلسطینی سیکیورٹی فورس کے ترجمان انور رجب کے مطابق ان نوجوانوں نے فورس کے ہیڈ کوارٹر پر فائرنگ کی اور گاڑیاں ساتھ لے گئے۔ یہی گاڑیاں چھڑانے کے لیے جنین میں کارروائی کی گئی۔
انور رجب کا کہنا تھا یہ گاڑیاں اتھارٹی واپس لے کر رہے گی اور جو بھی گاڑیاں لے جانے کا ذمہ دار ہوا اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
دوسری جانب جنین میں فلسطینی نوجوانوں کی طرف سے پرہس کانفرنس کرنے والے محمد ابو طلال نے کہا فلسطینی اتھارٹی نے ہم فلسطینیوں کو مشکل ترین حالات میں بے یارو مدد گار چھوڑ رکھا ہے۔
محمد ابو طلال نے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے فلسطینیوں کے غیر قانون سر گرمیوں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کیا۔ نیز کہا یہ مسلسل آپریشن کرتے ہیں تاکہ جو لوگ فلسطینیوں کی حفاظت کرتے ہیں یہ اتھارٹی انہیں کمزور کرتی رہے۔
معلوم ہوا ہے اس علاقے کے فلسطینی لوگوں اور فلسطینی اتھارٹی کی فورس کے درمیان اس وقت سے کشیدگی پیدا ہوئی جب فلسطینی اتھارٹی نے اسی علاقے سے فلسطینیوں کی گرفتاریاں کیں۔