موسم سرما میں اسرائیل کا اپنی فوج کو جبل الشیخ میں موجود رہنے کا حکم

اسرائیلی فوج نے گولان کی چوٹیوں میں شامی سمت پر آٹھ جون پر کسی مزاحمت کے بغیر قبضہ کر لیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے دفتر سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسرائیلی فوج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسم سرما کے دوران دمشق کے سامنے جبل الشیخ میں قائم بفر زون میں موجود رہنے کی تیاری کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں ہماری [اسرائیلی فوج] کی جبل الشیخ کی چوٹی پر موجودگی ضروری امر ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے بھی جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز گولان کی پہاڑیوں سے متصل شام کے بفر زون میں اس وقت موجود رہیں گی جب تک شام کی طرف سے کوئی طاقت سیکیورٹی کی گارنٹی نہیں دے دیتی۔

باغیوں کے ہاتھوں شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد اسرائیلی فوج نے گولان کی پہاڑیوں کے اپنے علاقے سے بفر زون اور شام کی طرف پیش قدمی کی ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل، جہادی گروپوں کو یہ خلا پر کرنے اور اسرائیلی آبادیوں پر سات اکتوبر طرز کے حملوں کے خطرے کی اجازت نہیں دے گا۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل کے اس اقدام کو 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس معاہدے میں اسرائیل اور شام کی افواج کے درمیان اقوام متحدہ کی زیر نگرانی بفر زون کی وضاحت کی گئی ہے۔

فرانس، ایران، روس، ترکیہ اور سعودی عرب نے بھی اسرائیل کے اس اقدام پر تنقید کی ہے، جب کہ امریکہ نے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ بفر زون میں فوجوں کی تعیناتی کی نوعیت عارضی ہو۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کی اس خانہ جنگی میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں، جب کہ ملک کی نصف آبادی اپنے گھر بار چھوڑ کر جا چکی ہے اور تقریباً 60 لاکھ شامی باشندے بیرونی ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کی اس خانہ جنگی میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں، جب کہ ملک کی نصف آبادی اپنے گھر بار چھوڑ کر جا چکی ہے اور تقریباً 60 لاکھ شامی باشندے بیرونی ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں