یروشلم میں اسرائیل کے ایک شہری کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔اس پر اسرائیلی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ ایران کو بھاری رقوم کے بدلے انٹیلی جنس معلومات فروخت کرتا ہے۔اس سلسلے میں سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ان انٹیلی جنس معلومات نے اسرائیل پر حالیہ ایرانی حملے میں بھی کردار ادا کیا ہوگا۔
الزام کے مطابق ایران سے جڑے اس جاسوس اسرائیلی کانام جان بتایا گیا ہے جو پچھلے اکتوبر سے جاسوسی نیٹ ورک کے لیے کام کر رہا تھا تاہم اس کی گرفتاری ماہ نومبر میں کی گئی ہے۔ بظاہر یہی دعوی ہے کہ یہ اسرائیل کا یہ 23 سالہ شہری حکومت کا سیاسی مخالف یا اسرائیلی جنگی جنون کا مخالف نہیں ہے۔ اس کی گرفتاری کے حوالے سے اسرائیلی حکام نے باقاعدہ بیان منگل کے روز جاری کیا ہے۔
واضح رہے اسرائیلی نوجوانوں کی ایک معقول تعداد اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف سوچتی ہے مگر میڈیا پر یہ خبریں نہیں آ سکتیں۔ ان جنگ مخالف شہریوں کی سوچ کا اظہار عام طور پر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ریلیوں میں سامنے آتا ہے۔
ادھر شین بیت نامی اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے کے ترجمان نے اس گرفتار کیے گئے نوجوان کے بارے میں کہا ہے اس نے ایران کو یروشلم میں ریل سسٹم کو نقصان پہنچانے کے لیے بجی کے نظام کی اور پاور سٹیشنوں کے بارے میں معلومات تک رسائی حاصل کی تھی۔ ترجمان کے بقول یہ بات دوران تفتیش بتائی ہے۔ نیز اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بندوق خریدنے کی بھی کوشش کی تھی۔ تاکہ اسرائیلی پر حملوں میں استعمال کر سکے۔ اسرائیل ایران کو مشرق وسطی میں اپنا سب سے اہم دشمن ملک سمجھتا ہے اور اس سے جڑی ہر چیز کو دشمن کے طور پر ڈیل کرتا ہے۔
اسی وجہ سے پچھلے ہفتے ہی بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' روئٹرز' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف مواقع اور مقامات سے ایران کے لیے جاسوسی کرنے والے اسرائیلیوں کو تیس کی تعداد میں زیر حراست رکھا گیا ہے۔ ان میں بڑی تعداد یہودیوں کی ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات بہت تشویشناک ہے کہ ایران نے اسرائیل اور اس کے اداروں کے اندر تک جاسوسی کا اچھا خاصا نیٹ ورک بنا لیا ہے۔ ایران کو یہ کامیابی حالیہ دو برسوں کے دوران ملی ہے۔ اکثر جاسوسوں کو ایرانی انٹیلی جنس نے خریدا ہے اور ان سے معلومات بھی بھاری رقوم دے کر خریدی جاتی ہیں۔