شام : لڑکیوں کے سکول جانے پر کوئی پابندی نہیں ، وزیر تعلیم ھیتہ التحریر الشام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام کے نئے وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ شام تعلیمی نظام پر 'بعث پارٹی' کے زمانے کے مسلط کردہ تمام اثرات کو ختم کر دے گا۔ تاہم اس کے علاوہ نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی بچیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی۔

وزیر تعلیم نذیر محمد القادری نے کہا 'تعلیم شام کے عوام کے لیے سرخ لکیر کا درجہ رکھتی ہے۔ ہم اسے پانی و خوراک سے بھی زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔' انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

وزیر تعلیم نے کہا 'تعلیم کے حصول کا حق محدود ہے نہ مخصوص۔ تعلیم حاصل کرنا بچیوں کے لیے بچوں کی طرح اہم ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ بچیوں کے لیے بچوں سے بھی زیادہ اہم ہو۔'

شام کی قوم پرست سیکولر جماعت 'بعث' نے 1963 میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور تعلیم کو اپنی وفاداری کی تخلیق کے لیے استعمال کرتی رہی۔ تاکہ نئی نسل بعث پارٹی کی وفادار رہے۔ تاہم آٹھ دسمبر کو بشار الاسد کا تختہ الٹے جانے کے بعد 'ھیتہ التحریر الشام' کے نام سے ایک گروپ برسر اقتدار ہے۔ جس سے مغربی دنیا کو خوف ہے کہ وہ ایک رجعت پسند اسلامی حکومت کی تشکیل کر سکتی ہے۔

مگر وزیر تعلیم قادری کے خیالات سے لگتا ہے کہ ان کی حکومت کے سامنے وسیع تر انتظامی اپروچ ہے اور ان کی سوچ اب تک اعتدال پر مبنی پیغام کی حامل ہے۔

وزیر تعلیم نے کہا 'مسلمان اور عیسائی دونوں کو شام کے سکولوں میں ایک ہی مضمون پڑھنا ہوگا۔ پرائمری سکولوں میں تعلیم مخلوط ہوگی۔ جبکہ ثانوی درجے کے سکولوں میں تعلیم بالعموم لڑکوں کے لیے الگ اور لڑکیوں کے لیے الگ ماحول میں ہوگی۔ پرائمری تعلیم کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول الگ ہوجائیں گے۔ یہ شروع سے ہی الگ ہیں اور ہم اس میں تبدیلی نہیں چاہتے۔'

وزیر تعلیم قادری نے حال ہی میں اپنے آرائش شدہ دفتر میں بیٹھنا شروع کیا ہے۔ ان کے پاس دفتر میں ابھی شام کا نیا پرچم بھی موجود نہیں تھا۔

'ھیتہ التحریر الشام' سے تعلق رکھنے والے شام کے نئے حکمران جو القاعدہ سے اپنے تعلق سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں تمام اقلیتی گروپ بشمول امریکی حمایت یافتہ کرد، مغربی حمایت یافتہ عیسائی، اسرائیل اور شام میں بٹے ہوئے دروز اور روسی و ایرانی حمایت یافتہ علویوں کے ساتھ یکسا سلوک کرے گی۔ تاکہ تعمیر نو پر توجہ دی جاسکے۔

شام جس نے 13 برس تک خانہ جنگی برداشت کی ہے۔ اس عرصے میں سخت امریکی و مغربی پابندیوں کی زد میں رہا ہے جبکہ اب اسے امریکہ و یورپ کی خواہشات کی تکمیل کا ایک بڑا چیلنج درپیش ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم نے بتایا کہ شام کے 18 ہزار سکولوں میں سے نصف تباہ ہو چکے ہیں۔ تاہم پرانی حکومت کے کارکنوں نے 'ھیتہ التحریر الشام' کی عبوری حکومت کے ساتھ پورا تعاون کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ نئی عبوری حکومت کے وزراء کی بڑی تعداد 30 سے 40 سال کی عمر کے درمیان کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ وزیر تعلیم قادری کی عمر ان میں سب سے زیادہ یعنی 54 سال ہے۔

54 سالہ وزیر تعلیم جو 2008 میں بشار الاسد حکومت کی جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔ بشار الاسد حکومت کی طرف سے ان پر الزام تھا کہ وہ ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں۔ رہائی کے بعد قادری ادلب چلے گئے تھےجہاں انہوں نے اپنی گریجوایشن کی ڈگری مکمل کی۔

نذیر محمد قادری نے اس دوران اپنا تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھا اور وہ آج کل عربی زبان میں ماسٹر کی ڈگری مکمل کرتے ہوئے تھیسز لکھ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں