غزہ: شہری ہلاکتوں پر میڈیا رپورٹس کے بعد اسرائیلی فوج کی پسپائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی فوج کو جمعہ کے روز ایک تحقیقات میں اس وقت پسپائی پر مجبور ہونا پڑا جب اسرائیلی اخبار 'ہارٹز' نے بغیر نام دیے اسرائیلی فوجیوں کو بلا امتیاز قتل و غارت گری کا ذمہ دار قرار دیا۔

'خوں ریزی کے یہ واقعات نٹساریم راہداری کے علاقے میں پیش آئے۔ جہاں تمام کے تمام آپریشن اور فوجی کارروائیاں اسرائیلی فوج نے انجام دیں۔ ان میں نٹساریم راہداری بھی شامل ہے۔ جو اسرائیلی فوجی حکام کے طے شدہ طریقہ جنگ اور زبانی جنگی احکامات کے تحت کیے گئے ہیں۔' یہ بات اسرائیلی فوج کی طرف سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو ایک بیان میں بتائی گئی ہے۔

جمعرات کے روز اسرائیلی بائیں بازو کے رجحانات کے حامل اخبار 'ہارٹز' کو ملک کے دائیں بازو کی جماعتوں اور حکومت کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ، جب اس نے اپنی رپورٹ میں فوجیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اعلیٰ فوجی حکام غیر روایتی انداز کی غزہ کے لیے ہدایات جاری کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوجی حکام یہ حکم دیتے ہیں کہ غیر مسلح خواتین، بچوں اور فلسطینی مردوں کو بھی قتل کیا جائے۔

اخبار کی اس رپورٹ میں اس سلسلے میں نٹساریم راہداری کے علاقے کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔ جو سات کلومیٹر چوڑی پٹی ہے اور اسرائیل سے شروع ہو کر غزہ سے گزرتے ہوئے بحر متوسط تک جاتی ہے، جسے اسرائیلی فوج نے مکمل طور پر ایک فوجی زون میں تبدیل کر رکھا ہے۔

رپورٹ میں ایک افسر کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ایک فوجی افسر نے ایک ایسے کمانڈر کے حکم کا ذکر کیا جس میں 200 لوگ قتل ہوئے۔ لیکن بعد ازاں تصدیق ہوئی کہ ان میں صرف 10 حماس سے وابستہ لوگ تھے۔

ان اسرائیلی فوجیوں کا اخبار سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں بار ہا ایسے احکامات ملتے ہیں جن پر فوجی روایات اور جنگی اقدار کی روشنی میں سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمیں حکم دیا جاتا ہے جو بھی اس علاقے میں داخل ہو اسے گولی سے اڑا دو۔

اخباری رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح کمانڈرز کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ جہاں چاہیں بمباری کر دیں اور جہاں چاہیں ٹینکوں سے گولے پھینک دیں۔ اس سب کی اعلیٰ فوجی قیادت کی طرف سے کھلی چھٹی ہے۔

غزہ میں کوئی معصوم نہیں

اسرائیلی فوج نے 'ہارٹز' کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹ زارم راہداری کے علاقے میں تمام تر فوجی کارروائیاں مینڈیٹ کے مطابق طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہیں۔

فوجی طریقے سے ہی اہداف کا تعین کیا جاتا ہے اور انہیں ہنگامی بنیادوں پر طے کیے گئے ٹائم فریم کے اندر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو کہ زمین پر موجود فوج کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔

فوجی بیان میں مزید کہا گیا ہے 'جن واقعات پر تشویش بڑھی ہے وہ اسرائیلی فوج کے احکامات سے انحراف یا طے کردہ اخلاقی معیارات کی خلاف ورزی سے بڑھی ہے۔ ایسے واقعات کو ہمیشہ دیکھا جاتا ہے اور ان کو چیک کیا جاتا ہے۔

'ہارٹز' سے بات کرنے والے فوجیوں نے ایک مخصوص کمانڈر پر انگلی اٹھائی جس کا نام بریگیڈیئر جنرل یہودا واچ ہے۔ اس اسرائیلی فوجی افسر نے پچھلی گرمیوں میں اسرائیلی فوج کی '252 ڈویژن' کی کمان سنبھالی تھی جو نیٹ زارم علاقے میں تعینات ہے۔

ایک فوجی نے 'ہارٹز' کے ساتھ انٹرویو میں کہا 'بریگیڈیئر جنرل واچ کی پیدائش مغربی کنارے کی ایک یہودی بستی میں ہوئی تھی۔ اس لیے وہ جو بھی حکم دیتے ہیں وہ مغربی کنارے کے رہنے والے یہودیوں کی سوچ کے پس منظر میں دیتے ہیں۔

ایک اور فوجی نے اپنے بریگیڈیئر جنرل کے بارے میں کہا کہ ہمیں ان کی طرف سے دوٹوک حکم دیا گیا ہے کہ غزہ میں کسی کو معصوم نہ سمجھو۔ غزہ میں کوئی معصوم نہیں۔

اسرائیلی فوج نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان بریگیڈیئر جنرل کا نہیں ہے۔ ان سے غلط طور پر منسوب کیا گیا ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی بیان بےبنیاد ہے۔

واضح رہے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 45100 سے زائد فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد 107000 سے زائد ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق قتل اور زخمی ہونے والے فلسطینیوں میں 70 فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں