غزہ میں پھنسے فلسطینی نژاد امریکیوں کو نکالنے میں ناکامی: امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ

مقدمے میں امتیازی سلوک کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نو فلسطینی امریکیوں نے جمعرات کو امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا جس میں الزام لگایا کہ وہ غزہ جنگ کے دوران انہیں یا ان کے خاندان کے افراد کو بچانے میں ناکام رہی ہے۔

مقدمے میں محکمہ خارجہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ فلسطینی نژاد امریکیوں کو جنگی علاقے میں بے یار و مددگار چھوڑ کر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے اور ان کے فوری انخلاء اور حفاظت کے لیے ویسی کوشش نہیں کر رہا ہے جیسا کہ اسی طرح کے حالات میں دیگر امریکیوں کے لیے کی جاتی ہیں۔

اس ہفتے امریکی حکومت کے خلاف یہ دوسرا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ قبل ازیں فلسطینی خاندانوں نے منگل کے روز واشنگٹن کی طرف سے اسرائیلی فوج کی حمایت کرنے پر امریکی محکمہ خارجہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ محکمہ زیر التواء قانونی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا جبکہ مزید یہ کہا کہ دنیا بھر میں امریکی شہریوں کی حفاظت اور سلامتی اس کی "اولین ترجیح" ہے۔

جمعرات کے مقدمے کا اعلان ایڈووکیسی گروپ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور اٹارنی ماریا کاری نے کیا اور یہ شمالی ضلع الینوائے کی امریکی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا۔

اس مقدمے میں الزام ہے کہ "وفاقی حکومت کی طرف سے غیر فلسطینی امریکیوں کے انخلاء کے لیے عموماً جو کوششیں کی جاتی ہیں، مدعیان کو ان سے محروم کر دیا گیا" جس سے امریکی آئین کے تحت ان کے مساوی تحفظ کے حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

مقدمے میں امریکی حکومت کی جانب سے افغانستان، لبنان اور سوڈان جیسے متنازعہ علاقوں سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے تقابلی واقعات کا ذکر ہے اور صدر جو بائیڈن، وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کو مدعا علیہان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے غزہ سمیت دنیا بھر کے غیر محفوظ علاقوں سے امریکیوں کو نکال لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں