ریاض میں ہفتے کو ٹائسن فیوری اور اولیکسینڈر یوسیک کے درمیان دوسری مرتبہ باکسنگ کا ایک ایسا میچ ہونے والا ہے جس کا شائقین کو شدت سے انتظار ہے۔ اور اس میچ کا انتہائی خاص، دلچسپ اور نادر پہلو یہ ہے کہ ایک مصنوعی ذہانت کا حامل جج اس میچ کا سکور کرے گا۔
جمعہ کے اوائل میں جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ترکی آلِ الشیخ کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اے آئی جج وضاحت کرتا ہے کہ یہ مقابلے کی سکورنگ کیسے کرے گا۔
انسان نما شخصیت نے 38 سیکنڈ کے کلپ میں اعلان کیا، "میں مصنوعی ذہانت کا حامل باکسنگ کا اولین جج ہوں۔ اور میں یہاں رنگ میں انصاف لانے کے لیے آیا ہوں۔"
معروف باکسنگ میگزین دی رِنگ کا پیش کردہ اے آئی جج صرف ایک "تجربہ" ہے اور آلِ الشیخ کے مطابق یہ لڑائی کا فیصلہ نہیں کرے گا۔
باکسنگ فائٹ میں عموماً تین جج سکورنگ کرتے ہیں جو ناک آؤٹ نہ ہونے کی صورت میں فاتح کا انتخاب کرنے کے لیے ہر راؤنڈ میں 10 پوائنٹ والے نظام کا استعمال کرتے ہیں۔
اے آئی جج نے کہا، "میں لڑائی کے دوران ہر راؤنڈ، ہر حرکت اور ہر فیصلہ کن لمحے کا تجزیہ کرتا ہوں۔"
انسانی ججز کی طرح مصنوعی جج سکور کا حساب لگانے اور فیصلہ کرنے کے لیے ریئل ٹائم میٹرکس کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا کہ کون جیتا ہے۔
ماضی میں انسانی ججز پر درست طریقے سے سکور نہ کرنے، جانبداری یا بدعنوانی کے زیادہ سنگین الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ اس تجربے کے طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے لیکن فٹ بال اور کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں میں ریفریز اور امپائرز کی مدد کے لیے اسی طرح کی ٹیکنالوجیز کا استعمال تیزی سے درست فیصلے کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جس سے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
لڑائی کے لیے جوش و خروش بڑھ رہا ہے۔ فیوری نے مئی میں ناقابلِ شکست یوکرینی باکسر سے شکست کے بعد دوبارہ میچ کے لیے اپنے معاہدے میں ایک شق کا استعمال کیا تھا۔ اس دفعہ وہ بدلہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
جمعہ کو ہونے والے باضابطہ مقابلے سے پہلے جمعرات کی رات کو کھلاڑیوں نے میڈیا کے لیے تصاویر بنوائیں۔