غار اور زیرزمین بنکرز: سیٹلائٹ تصاویر سے حوثیوں کے خفیہ ٹھکانوں کی تفصیل سامنے آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

ایک سال قبل حوثی گروپ نے اپنی صلاحیتوں، افواج اور اپنے لیڈروں کے ٹھکانوں کو محفوظ بنانے کے لیے دوبارہ متحرک کیا تھا۔ اس دوران حوثیوں نے اپنے سکیورٹی نظام، احتیاطی تدابیر، تعیناتی اور تقسیم کی حکمت عملیوں اور کمانڈ اینڈ آپریشنز سنٹرلائزیشن میکانزم کو جامع اپ ڈیٹ کیا ہے تاکہ وہ امریکی اور برطانوی حملوں سے بچ سکیں۔ غزہ کی حمایت کے نعرے کے تحت بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحیرہ عرب میں تجارت کو نشانہ بنانے کے پس منظر میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ اسرائیل نے بھی حوثیوں پر حملے کیے ہیں۔

اس سے قبل یہ گروپ 26 مارچ 2015 کو یمن کی قانونی حیثیت کی حمایت کرنے والے عرب اتحادی ممالک کی طرف سے شروع کیے گئے آپریشن "فیصلہ کن طوفان - امید کی بحالی" کے دوران فضائی حملوں سے بچنے کے لیے ناہموار علاقوں میں زیر زمین اور پہاڑوں کے نیچے قلعہ بند تنصیبات تعمیر کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

گروپ سٹریٹجک ہتھیاروں اور گولہ بارود کو چھپانے میں کامیاب ہوا جو اس نے یمنی فوج کے اسلحہ ڈیپو سء حاصل کیا تھا اور اسی طرح اس نے ایران سے پہنچنے والی جدید ٹیکنالوجیوں اور پرزوں کو بھی چھپا لیا تھا۔

ایک آزاد یمنی ڈیفنس لائن پلیٹ فارم کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے مطابق حوثی گروپ گوریلا جنگوں اور پہاڑی لڑائی پر مبنی مسلح بغاوت کر رہا ہے۔ گروپ اس کے علاوہ طریقوں کی تقلید بھی کر رہا ہے۔ ایران اور اس سے وابستہ پاسداران انقلاب اور حزب اللہ پارٹی کے ماہرین نے بھی حوثی گروپ سے تعاون کیا ہے۔

حوثی ملیشیا کے ارکان
حوثی ملیشیا کے ارکان

حوثی گروپ نے اپنے زیر کنٹرول مختلف علاقوں میں فوجی اڈے تقسیم کیے ہیں۔ خاص طور پر صعدہ گورنری اور پڑوسی پہاڑی گورنریوں میں توجہ مرکوز کی ہے۔ اس نے بڑے خفیہ اڈوں اور سڑکوں کے بہت سے جال تعمیر کیے ہیں۔ پھر دارالحکومت صنعا اور ارد گرد کے پہاڑی علاقے، الحدیدہ گورنریٹ اور مغربی پہاڑی علاقوں میں بھی اپنا نیٹ ورک مضبوط کیا ہے۔

سیٹلائٹ امیجز اور گوگل ارتھ سے پتہ چلتا ہے کہ حوثی گروپ نے صعدہ پہاڑوں اور ہمسایہ پہاڑی سلسلوں عمران، حجہ اور الجوف میں درجنوں اہم اور ذیلی اڈے قائم کیے ہیں۔ ان اڈوں میں ہتھیار، سازوسامان، ایندھن، رقم کو ذخیرہ کیا گیا ہے۔ گروپ نے میزائلوں کو چھپانے اور لانچ کرنے کے لیے زیر زمین غاریں کھودی ہیں۔ فضائی جنگی سازوسامان اور ڈرون کے لیے پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں۔ نگرانی اور جاسوسی کے نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور غیر ملکی ماہرین اور مشیروں کے لیے پناہ گاہیں بھی بنا رکھی ہیں۔

تصویری تجزیے کے نتائج نے صعدہ شہر اور الصفراء، سحار، حیدان، ساقین، البقع اور کتاف کے اضلاع میں وسیع تعمیراتی کاموں کو ظاہر کیا ہے۔ یہ سٹریٹجک جغرافیہ امریکی- برطانوی فضائی حملوں اور کچھ امریکی سٹیلتھ بمبار حملوں کا نشانہ بنا ہے۔ 17 اکتوبر کو زیر زمین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ حملے صعدہ میں دو حوثی اڈوں پر کیے گئے تھے۔

الجوف گورنری میں ڈیفنس لائن ٹیم کے ذریعے تجزیہ کردہ گوگل ارتھ کی تصاویر اور کھلے انٹیلی جنس ذرائع نے حوثی فوجی تنصیبات کی موجودگی اور گورنری کے پہاڑی علاقوں میں جاری پیش رفت کو ظاہر ظاہر کیا ہے۔ حریف سفیان عمران سے ملحقہ اضلاع الزاھر اور حمیدات کے پہاڑی سلسلوں کی تصاویر لائی گئیں۔

تصاویر کے مطابق خراب المراشی ضلع جو الجوف، عمران اور صعدہ کو جوڑتا ہے اور پہاڑی ضلع رجوزہ بھی شدید حوثی عسکری سرگرمیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صعدہ کی سرحد سے متصل ضلع برط العنان کا تمام راستہ، جہاں الجوف کے بلند ترین پہاڑ واقع ہیں، یہ صعدہ اور اس کے ناہموار علاقے کی وجہ سے حوثیوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ حجہ گورنریٹ میں حوثیوں کی سہولیات اور ٹھکانے بھی مغربی اضلاع عبس، میدی اور حیران میں مرتکز ہیں ۔ یہ اضلاع بحیرہ احمر کے سامنے ہیں اور سعودی عرب کی سرحد پر حرض تک پھیلے ہوئے ہیں۔

معلومات اور سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کی زیر زمین اور پہاڑوں میں فوجی اڈے بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ عبس اور میدی کے ساحلی جغرافیہ میں سرنگوں اور پناہ گاہوں کا ایک وسیع نیٹ ورک کھو دیا گیا ہے۔ بیلسٹک میزائلوں کے ٹھکانے، ڈرون، بحری کشتیاں، ریڈار سسٹم کے مراکز ہیں۔ کھیتوں میں فوجی سازوسامان کو جمع کرنے اور تیار کرنے کے لیے ورکشاپس کا قیام کیا گیاہے۔۔ حرض میں جاسوسی کے مراکز کے ساتھ ساتھ میزائل لانچرز، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام موجود ہیں۔

عمران گورنری میں معلومات اور سیٹلائٹ امیج کے تجزیے کے نتائج گورنری کے بلند ترین پہاڑوں میں حوثیوں کی پیشرفت اور تعمیرات کی موجودگی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ضلع حرف سفیان، جو جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے، میں ایسی تعمیرات موجود ہیں۔ پرانے فوجی اڈے اور فوجی ہیڈ کوارٹر سفیان میں واقع ہیں جہاں سے صنعا، عمران، صعدہ اور الجوف کو ملانے والی مرکزی سڑکیں گزرتی ہیں۔

صنعا میں ہتھیاروں کے ذخائر اور غار

دارالحکومت صنعاء اور صنعاء گورنریٹ کے آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں حوثی فوجی اڈوں کا دوسرا سب سے بڑا کمپلیکس واقع ہے۔ حوثی نئے فوجی اڈوں، زیر زمین بنکرز، سرنگوں اور قلعوں کے قیام کی سرگرمیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ پہاڑ جو دارالحکومت کو گھیرے ہوئے ہیں اور علی عبداللہ صالح کے دور میں تعمیر کیے گئے تھے میں قلعہ بند پرانی فوجی تنصیبات کو جدید بنایا گیا ہے۔

حوثی گروپ سازگار علاقوں اور اجزا سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یمنی فوج کے فوجی انفراسٹرکچر، ہیڈ کوارٹر اور سٹورز کا استعمال کر رہا ہے۔ یہ وہ فوجی تنصیبات ہیں جس پر حوثیوں نے جنگوں، بھرتیوں، فرقہ وارانہ نقل و حرکت اور یمن کی سرحدوں کے اندر اور باہر اپنی کارروائیوں کے انتظام کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔

سیٹلائٹ امیجز، گوگل ارتھ امیجز اور کھلے ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ حوثی گروپ نے الحفا کیمپ میں زیر زمین ہتھیاروں کے پرانے سٹورز اور دارالحکومت کے مشرق میں نقم کے پہاڑوں میں کیمپوں کوبحال کیا ہے۔ نقم میں نئے، وسیع ٹھکانے اور قلعے بنائے ہیں۔

معلومات کے مطابق حوثیوں نے عطان پہاڑوں میں قلعہ بند سرنگوں میں چھپے پرانے میزائل سٹورز کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں پہلے میزائل بریگیڈ تعینات تھے اور بیلسٹک اور پروں والے میزائل چھپے ہوئے تھے۔ سکیورٹی ذرائع نے پہلے ڈیفنس لائن کو اطلاع دی تھی کہ حوثیوں نے دارالحکومت صنعا کے مشرقی پہاڑوں میں پرانے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخیروں کی تلاش اور نئی قلعہ بندی اور سرنگیں بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر کھدائی کا کام کیا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حوثیوں نے بڑے پیمانے پر تعمیرات اور پیشرفت کی ہے اور علاقے میں فوجی اڈے کے مقامات پر نئی سڑکیں تعمیر کی ہیں۔ دارالحکومت کے شمال میں جربان، شمال مغرب میں ہمدان کے علاقےمیں، اسی طرح الکسارات کے علاقے میں وسیع غاریں بنائی گئی ہیں جو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ مشرق میں حوثیوں نے البیضاء گورنری میں فوجی تنصیبات قائم کی ہیں اور بحیرہ عرب کی طرف اڈے، میزائل لانچرز اور طیارے تعینات کیے ہیں۔

انٹیلی جنس معلومات اور سیٹلائٹ تصاویر گروپ کی جانب سے سرنگوں اور قلعوں کی تعمیر میں تیزی کا بتا رہی ہیں۔ مارب کے بلند علاقوں میں سڑکیں بنانے کا پتہ چل رہا ہے۔ سٹریٹجک ھیلان پہاڑی سلسلے میں اور محاذ آرائی والے علاقوں میں سرنگوں اور قلعوں کے جال کی کھدائی ظاہر ہو رہی ہے۔

الحدیدہ اور مغربی پہاڑی علاقوں میں عسکریت کاری

الحدیدہ گورنری میں بحیرہ احمر کے سامنے والے مغربی ساحل پر حوثی گروپ نے تہامہ کے میدانی علاقوں اور الحدیدہ اور الصلیف شہر میں ساحلی جزیروں اور بندرگاہوں میں نئی فوجی تنصیبات اور اڈے بنانے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

اس گروپ نے حماس، اسلامی جہاد، اور حزب اللہ کی طرز پر زیر زمین سرنگوں اور غاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ ہتھیاروں اور جدید بحری گولہ بارود کو چھپانے کے لیے قلعہ بند گودام بنائے ہیں۔ سمندری بارودی سرنگیں اور بوبی بنانے کے مراکز بھی قائم کیے ہیں۔ سطح سے سمندر اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں اور اینٹی شپ میزائلوں کو جمع کرنے کے لیے دفن شدہ کمانڈ اور گائیڈنس بنکرز بنائے ہیں۔

سیٹلائٹ کی تصاویر میں حوثی گروپ کو بحیرہ احمر کے نظارے والے مغربی پہاڑوں ریمہ، ذمار، اب اور تعز گورنریٹس میں ترقی، تعمیرات اور سڑکیں بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان سٹریٹجک علاقوں میں گروپ نے میزائل، ڈرون، الیکٹرو آپٹیکل سرویلنس سسٹم، ایئر ڈیفنس سسٹم، اور الیکٹرانک جنگی اور جاسوسی کے آلات لانچ کرنے کے لیے فکسڈ اور موبائل پلیٹ فارمز کو لگایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں